Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Unknown's Photo'

نا معلوم

نا معلوم کے دوہے

باعتبار

واسکھ ماتھے سل پڑے جن سکھ ہر بسرائے

واسکھ سین پہچیا بھلی جو رام کہت دن جائے

آلس نیند کسانے کھوبے چورے کھوبے کھانسی

ہنسی مسخری سادھے کھوبے برہمن کھوبے داسی

مین کاٹ جل دھوئیے کھائے ادھک پیاس

رحمن پیت سراہیے موئے میت کی آس

برے لگت سکھ کے بچن ہیے بچارو آپ

کروی بھیشج بن پئے مٹئے نہ تن کی تاپ

آوت ہی ہر شے نہیں نین نہیں سنیھ

تلسی تہاں نہ جائے کنچن برسے مینھ

چھن چڑے چھن اوترے سو تو پریم نہ ہوئے

آٹھ پہر لاگیو رہے پریم کہاوے سوئے

چندن پرو چمار کیں نت اٹھ چیرت چام

کہوہ چندن کیسی بھئی؟ پرو نیچ سے کام؟

چونچ تہاری کاٹ کے تاپے چھر کوں نون!

پیا میرے میں پیو کی توپی کہے سو کؤن ؟

بیر سرا ہیں بیرتا جتی جیستاجان

رحمن سانچے سور کو بیری کرت بکھان

کنک کنک تیں سو گونی ماد کتا ادھیکائے

اوئے کھائے بورائے جگ یہ پائے بورائے

جو تو آیا جگت میں جگت سرا ہے توئے

ایسی کرنی کر چلو پا چھے ہنسی نہ ہوئے

کبیر آپ ٹھگائے اور نہ ٹھگئے کوئے

آپ ٹھگے سکھ اوپجے اور ٹھگے دکھ ہوئے

ماٹی کہے کمھار سے تو کیا روندے موئے

اک دن ایسا آئے گا میں روندوں گی توئے

آ جا پیارے نین میں پلک ڈھانپ توے لوں

نا میں دیکھوں اور کو نا تو کوں دیکھن دوں

سانجھ بھئی اور دیا جرئے پیانہ آئے پاس

نینن سے دوئی گنگ بہیں آور ڈوبن لاگی آس

اُتّم جن سوں ملت ہی اوگن سوگن ہوئے

گھن سنگ کھارو اوددھی مل برسے میٹھو توئے

تنکا کبھوں نہ نندئے جوپائین تر ہوئے

کبھو اڑے آنکھیں پرئے پیر گھنیری ہوئے

دیکھو کرنی کمل کی کینوں جل سوں ہیت

پران تجیو پریم نہ تجیو سوکھیو سرہین سمیت

تلسی سانچے سجن کو کا کر سکے کسنگ

ملیابش لاگے نہیں لپٹے رہت بھوجنگ

سمئے سمئے سندر سبئے روپ کروپ نہ کوئے

من کی روچی جتّی جتے تت تتّی روچی ہوئے

چلنا ہے رہنا نہیں چلنا بیسو بیس

سہجو تنک سوہاگ پرکیوں گندھوائے سیس

تلسی یہ سنسار میں رہیئے سبھی ملائے

ملیں سینگھ مارے نہی انملِ مارے گائے

جلج بھیؤ کیہر بھیو سوان بھیو پھر آئے

اب اباہ چاہت بھیو برہا بری بلائے

تلسی تینوں لوک میں کو جانے پر پیر

یا جانے من آپنایا جانے رگھو بیر

سہحو جگ میں یوں رہے جیوں جبھیا مکھ مانھ

گھیو گھنا بھکشن کریں تو بھی چکنی نانھ

پرتیم ہم تم ایک ہیں دیکھن کے ہیں دوئے

من سے من کو تولیے کبھی نہ دومن ہوئے

ہوت بھلے کے ست برو بھلو برے کے ہوئے

دیپک سے کاجل پر گھٹ کنول کیچ تے ہوئے

سانچے کو سانچا ملے آدھک بڑے سنیھ

جھوٹے کو سانچا ملے تڑدے ٹوٹے نیھ

سدا بھوم گوپال کی جا میں اٹک کہا

جا کے من میں اٹک ہے سوئی اٹک رہا

نینا رے تم ہی برے تم سا برانہ کوئے

آپ ہی پیت لگائے کے آپ ہی بیٹھے روئے

آج چندر ماں دوج ہے جگ چتوت چہوں اور

ہمرے اور وامتر کے نین بہئے اک ٹھور

سبے سہائک سبل کے کئو نہ نبل سہائے

پون جگاوت آگ کو دیپھی دیت بجھائے

ندی کنارے دہواں اٹھت ہے ہیں جانوں کچھ ہوئے

جاکارن جوگن بھئی وہی نہ جلتا ہوئے

موہے نہ نار نار کے روپا

پتنگار یہ نیت انوپا

پیت کئے دھن دھرم گیو اور بگڑے سِگرے کام

اپنے تھے سوبیر ہوئے اور نام ہوا بدنام

میر میں میر امیر وہی جو امیر ہوئے پہ غرور کرے نا

پیر میں پیر فقیر وہی جو فقیر ہوے پہ سوال کرے نا

تعریف اسی تروار کی ہے جو دہار پہ اپنے جھرے نامرے نا

مرد میں مرد وہی ہے بھلو جو کہے سوکرے جو کرے سو کہے نا

تلسی اپنے رام کو ریجھ بھجوہ کہ کھیج

الٹے سیدہے جام ہیں کھیت پرے کے بیج

جب دانت نہ تھے تب دودھ دیئو اب دانت دئے کا اننا نہ دے ہے؟

جل میں تھل میں پنچھی پشو کی سدھ لیت سو تیری ہولی ہے!

کاہے کو سونچ کرئے من مورکھ سونچ بچار کریں کچھو ہاتھ نہ آئے ہے

جان کو دیت اجان کو دیت جہاں کودیت سو تؤ کو دے ہے!

برہا جلتی دیکھ کے سائیں آئے دھائے

پریم بوند سے سیج کے تن سے لیو لگائے

کر کانپت پتیاں لکھت جل بھر آوت نین

کورو کا گج ہاتھ دے مکھ ہی کہیو بین

پرتیم تم جن جانیو تم بچھریں موی چین

آلے بن کی لاکری سلگت ہوں دن رین

حد حد کر کے سب گئے بے حد گیا نہ کوئے

انحد کے میدان میں رہا کبیرا سوے

سیکھ واہی کو دیجے جا کوں سیکھ سہاے

سیکھ نہ دیجے باندارا گھر بنئے کا جائے

نیہ سگا سوئی سگا ہاڑ سگا نہیں ہوے

ماں بیٹھی تریا جرے اچرج جگ کوں ہوے

در دیوار درپن بھئے جت دیکھوں تت توئے

کانکر پاتھر ٹھیکری بھئے آرسی موئے

سات سورگ اپورگ سکھ دھرئے تلا اک انگ

تولے نہ تاہی سکل ملے جو سکھ لو ستسنگ

تلسی آہ گریب کی کبھو نہ کھائی جائے

مرے چام کی سانس سے سار بھسم ہوہ جائے

تن اجرو من کوئلہ بگلے کا سا بھیس

تو سیں تو کاگا بھلو باہر بھیتر ایک

ساجن تورے درشن کو ترست ہوں دن رین

تارے گنتی رہت ہوں پلک لگے نا نین

نانک ننھا ہور ہو جیسی ننھی دوب

سبئے گھاس چرجائیں گی دوب خوب کی خوب!

Recitation

بولیے