تمام
غزل52
شعر1
صوفیانہ مضامین7
ویڈیو 517
کلام293
دوہا102
دکنی صوفی شاعری4
صوفی ادب2
فارسی کلام76
فارسی صوفی شاعری40
راگ آدھارت پد17
رباعی28
صوفیوں کے مکتوب7
دوہرا1
بھجن4
بیت136
ابھنگ4
صوفی اقوال878
وار1
نعت و منقبت374
قطعہ4
صوفی اطلاح11
چادر3
سہرا1
سلام20
ہولی4
غسل1
مخمس13
صندل1
گیت13
قول1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
کرشن بھکتی سنت شاعری1
صوفی تلمیح72
مناجات3
- تمام
- غزل 52
- شعر 1
- صوفیانہ مضامین 7
- ویڈیو 517
- کلام 293
- دوہا 102
- دکنی صوفی شاعری 4
- صوفی ادب 2
- فارسی کلام 76
- فارسی صوفی شاعری 40
- راگ آدھارت پد 17
- رباعی 28
- صوفیوں کے مکتوب 7
- دوہرا 1
- بھجن 4
- بیت 136
- ابھنگ 4
- صوفی اقوال 878
- وار 1
- نعت و منقبت 374
- قطعہ 4
- صوفی اطلاح 11
- چادر 3
- سہرا 1
- سلام 20
- ہولی 4
- غسل 1
- مخمس 13
- صندل 1
- گیت 13
- قول 1
- کرشن بھکتی صوفی شاعری 1
- کرشن بھکتی سنت شاعری 1
- صوفی تلمیح 72
- مناجات 3
نا معلوم کے صوفی اقوال
زندگی مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے اگر ایک رنگ بھی کم ہو جائے تو زندگی کا منظر ہی بدل جاتا ہے۔
سکون حاصل کرنے کی فکر چھوڑ دو سکون دینے کی فکر کرو تو سکون خود بہ خود مل جائے گا۔
جو شخص اعمالِ خیر کے بغیر قبر میں داخل ہوا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو سمندر میں بغیر کشتی کے داخل ہوا۔
اپنے آپ کو بے جا لالچ اور طمع سے بچاؤ کیوں کہ وہ تنگ دستی اور محتاجی کا پیش خیمہ ہے۔
اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔
عفو در گزر میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے، غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرو۔
ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔
ترقی کا زینا چڑھتے ہوئے لوگوں سے اچھا سلوک کرو نیچے اترتے ہوئے تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔
وہ شخص کیسے تکبر کر سکتا ہے جو مٹی سے بنا ہو، مٹی میں ملنے والا ہو اور مٹی میں کیڑے مکوڑوں کی غدا بننے والا ہو۔
جو انسان لذیز غذاؤں سے اپنا معدہ پُر کر لیتا ہے، اس بھوکے آدمی کی درد ناک التجاؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
نفس سے زیادہ دنیا میں کوئی شے سرکش نہیں اور اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہارے بعد دنیا کی کیا کیفیت ہوگی تو یہ دیکھ لو کہ دوسرے لوگوں کے جانے کے بعد کیا نوعیت رہی۔
جب تین شخص ساتھ میں بیٹھتے ہیں تو دو شخص کان میں بات نہ کریں اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔
جب تم کسی کو اپنا دوست بناؤ تو اپنے دل میں ایک قبرستان بنا لو جہاں تم اس کی برائیاں دفن کر سکو۔
دنیا سوچنے والوں کے لیے طربیہ اور جذبات میں بہہ جانے والوں کے لیے المیہ ہے۔
نیت کتنی بھی اچھی ہو دنیا آپ کو آپ کے دکھاوے سے جانتی ہے اور دکھاوا کتنا بھی اچھا ہو خدا آپ کو آپ کی نیت سے اجر دیتا ہے۔
اگر کچھ لوگ ساتھ چھوڑ دیں تو ان لوگوں کو سفر نہیں چھوڑنا چاہیے جنہیں راستہ معلوم ہے۔
در گزر کرنے میں اس کا درجہ بلند ہے جو سزا دینے میں سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہے۔
اپنےگھر کی باتیں باہر کے لوگوں کو نہ بتاؤ، تمہاری غیر موجودگی میں لوگ تمہارا مذاق اڑائیں گے۔
ہوتا یہی ہے کہ جو زیادہ قسمیں کھائے وہ جھوٹا نکلے، جو حد سے بڑھے چاپلوسی کرے وہ منافق ہو، جو ہر وقت ہنسنے ہنسانے میں مگن رہے اس کا دل مردہ ہو، جو ہر دل عزیز بننے کا خواہاں ہو وہ حق بات سے کترائے، جو شیخی مارے وہ کھوکھلا ہو اور جو بے حیائی اختیار کرے وہ معاشرے کے لیے خطرناک بن جائے۔
جاہل کو خدا کی معرفت نہیں ہوتی اس کے دل میں خدا کا خوف نہیں پیدا ہوتا اور نہ ہی ایسا شخص صحیح معنوں میں خدا کی تعظیم و طاعت بجا لا سکتا۔
تواضع اور نرم روی ہی انسان کو بلندی پر پہنچاتی ہے، جو شخص اپنی بڑائی ہانکتا ہے وہ کبھی عظیم نہیں بن سکتا۔
جن لوگوں کے دلوں میں محبتوں کی کونپلیں بغیر کسی صلے یا تمنا کے پھوٹیں وہ بے حس نہیں بے غرض ہوتے ہیں۔
دعا دروازے پر دستک کی طرح ہے، دعا ہمیشہ مانگتا رہ کیوں کہ بار بار دستک سے دروازہ کھل ہی جاتا ہے۔
کسی بھی کام میں جلد بازی کرنے والا خود بھی برباد ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی برباد کرتا ہے۔
پیسہ قرض لے کر چکایا جاسکتا ہے لیکن ہمدردی وہ قرض ہے جسے انسان کبھی نہیں چکا سکتا۔
دنیا کی محبت آخرت کی رغبت سے دور ہوتی ہے اور آخرت کی رغبت اعمالِ صالحہ کے بجا لانے پر وابستہ ہے۔
سماج کی نا مکمل حالت میں نہیں بلکہ اپنی خامی کے بارے میں سوچنے والا شخص ایک دن سماج کی تکمیل کے قابل بن سکتا ہے۔
شک ایک ایسا کانٹا ہے جس کا زخم براہِ راست دل پر لگتا ہے اور جس کا علاج ممکن نہیں۔