Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Unknown's Photo'

نا معلوم

نا معلوم کے صوفی اقوال

26
Favorite

باعتبار

تکبر علم کو کھا لیتا ہے۔

زندگی مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے اگر ایک رنگ بھی کم ہو جائے تو زندگی کا منظر ہی بدل جاتا ہے۔

جو شخص اپنی آنکھ کی حفاظت نہیں کرتا اس کا دل بے قیمت ہو جاتا ہے۔

سکون حاصل کرنے کی فکر چھوڑ دو سکون دینے کی فکر کرو تو سکون خود بہ خود مل جائے گا۔

جو درخت جتنا زیادہ پھل دیتا ہے اس پر اتنے زیادہ پتھر آتے ہیں۔

جو شخص اعمالِ خیر کے بغیر قبر میں داخل ہوا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو سمندر میں بغیر کشتی کے داخل ہوا۔

اپنے آپ کو بے جا لالچ اور طمع سے بچاؤ کیوں کہ وہ تنگ دستی اور محتاجی کا پیش خیمہ ہے۔

اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔

عفو در گزر میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے، غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرو۔

جو شخص قرض لے اور دینے کی نیت نہ ہو وہ چور ہے۔

ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔

جب تک تم کوئی چیز نہ خرید لو، تب تک پرانی چیز مت پھینکو۔

وہ دوزخ جس میں قاعد مساوات ہو، اس جنت سے بہتر ہے جس میں تفریق و درجات ہوں۔

دوسروں کو نصیحت اس وقت کرنے چاہیے جب خود بھی تمام برائیوں سے پاک ہو جائے۔

پریشانی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ خیالات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

ترقی کا زینا چڑھتے ہوئے لوگوں سے اچھا سلوک کرو نیچے اترتے ہوئے تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔

دنیا میں ان ہی لوگوں کی عزت ہوتی ہے جو اپنے اساتذہ کا احترام کرتے ہیں۔

کسی کے ایمان کا اندازہ اس کے وعدوں سے لگاؤ۔

وہ شخص کیسے تکبر کر سکتا ہے جو مٹی سے بنا ہو، مٹی میں ملنے والا ہو اور مٹی میں کیڑے مکوڑوں کی غدا بننے والا ہو۔

جو انسان لذیز غذاؤں سے اپنا معدہ پُر کر لیتا ہے، اس بھوکے آدمی کی درد ناک التجاؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

نفس سے زیادہ دنیا میں کوئی شے سرکش نہیں اور اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہارے بعد دنیا کی کیا کیفیت ہوگی تو یہ دیکھ لو کہ دوسرے لوگوں کے جانے کے بعد کیا نوعیت رہی۔

محبت کرنے والوں کے باہمی جھگڑے محبت میں اضافہ کرتے ہیں۔

جب تین شخص ساتھ میں بیٹھتے ہیں تو دو شخص کان میں بات نہ کریں اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔

جب تم کسی کو اپنا دوست بناؤ تو اپنے دل میں ایک قبرستان بنا لو جہاں تم اس کی برائیاں دفن کر سکو۔

دنیا سوچنے والوں کے لیے طربیہ اور جذبات میں بہہ جانے والوں کے لیے المیہ ہے۔

قومیت انسان کو انسان سے دور رکھنے کا گورکھ دھندا ہے۔

جو شخص اپنے اقوال میں حیا دار ہے وہ افعال میں بھی حیا دار ہوگا۔

نیت کتنی بھی اچھی ہو دنیا آپ کو آپ کے دکھاوے سے جانتی ہے اور دکھاوا کتنا بھی اچھا ہو خدا آپ کو آپ کی نیت سے اجر دیتا ہے۔

اگر کچھ لوگ ساتھ چھوڑ دیں تو ان لوگوں کو سفر نہیں چھوڑنا چاہیے جنہیں راستہ معلوم ہے۔

در گزر کرنے میں اس کا درجہ بلند ہے جو سزا دینے میں سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہے۔

اپنےگھر کی باتیں باہر کے لوگوں کو نہ بتاؤ، تمہاری غیر موجودگی میں لوگ تمہارا مذاق اڑائیں گے۔

حسد کرنے والا موت سے پہلے مر جاتا ہے۔

ہوتا یہی ہے کہ جو زیادہ قسمیں کھائے وہ جھوٹا نکلے، جو حد سے بڑھے چاپلوسی کرے وہ منافق ہو، جو ہر وقت ہنسنے ہنسانے میں مگن رہے اس کا دل مردہ ہو، جو ہر دل عزیز بننے کا خواہاں ہو وہ حق بات سے کترائے، جو شیخی مارے وہ کھوکھلا ہو اور جو بے حیائی اختیار کرے وہ معاشرے کے لیے خطرناک بن جائے۔

جاہل کو خدا کی معرفت نہیں ہوتی اس کے دل میں خدا کا خوف نہیں پیدا ہوتا اور نہ ہی ایسا شخص صحیح معنوں میں خدا کی تعظیم و طاعت بجا لا سکتا۔

ظلم عدل کو کھا جاتا ہے۔

غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

دنیا میں عزت کا سبب مال ہے اور آخرت کی فکر دل میں نور پیدا کرتی ہے۔

تواضع اور نرم روی ہی انسان کو بلندی پر پہنچاتی ہے، جو شخص اپنی بڑائی ہانکتا ہے وہ کبھی عظیم نہیں بن سکتا۔

جن لوگوں کے دلوں میں محبتوں کی کونپلیں بغیر کسی صلے یا تمنا کے پھوٹیں وہ بے حس نہیں بے غرض ہوتے ہیں۔

دعا دروازے پر دستک کی طرح ہے، دعا ہمیشہ مانگتا رہ کیوں کہ بار بار دستک سے دروازہ کھل ہی جاتا ہے۔

کسی بھی کام میں جلد بازی کرنے والا خود بھی برباد ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی برباد کرتا ہے۔

پیسہ قرض لے کر چکایا جاسکتا ہے لیکن ہمدردی وہ قرض ہے جسے انسان کبھی نہیں چکا سکتا۔

بخیل سے بچو، کیوں کہ وہ تمہاری حاجتوں میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے۔

دنیا کی محبت آخرت کی رغبت سے دور ہوتی ہے اور آخرت کی رغبت اعمالِ صالحہ کے بجا لانے پر وابستہ ہے۔

فتنہ ہے وہ روزی جس پر شکر نہ ہو اور وہ تنگی جس پر صبر نہ ہو۔

دوسروں کی عیب جوئی کرنے سے پہلے اپنے عیبوں پر نظر کرو۔

خدمتِ خلق عقلمندی ہے، غفلت شرمندگی ہے۔

سماج کی نا مکمل حالت میں نہیں بلکہ اپنی خامی کے بارے میں سوچنے والا شخص ایک دن سماج کی تکمیل کے قابل بن سکتا ہے۔

شک ایک ایسا کانٹا ہے جس کا زخم براہِ راست دل پر لگتا ہے اور جس کا علاج ممکن نہیں۔

لمبی لمبی آرزوئیں کرنے والے انسان کی جیبیں بھرتی ہیں دل نہیں بھرتا۔

Recitation

بولیے