تمام
غزل31
شعر1
صوفیانہ مضامین7
ویڈیو 476
کلام282
دکنی صوفی شاعری4
صوفی ادب2
فارسی کلام69
فارسی صوفی شاعری24
راگ آدھارت پد17
رباعی23
صوفیوں کے مکتوب7
دوہرا1
بھجن4
بیت70
ابھنگ4
صوفی اقوال878
وار1
نعت و منقبت314
قطعہ2
صوفی اطلاح11
چادر3
سہرا1
سلام20
ہولی4
غسل1
مخمس13
صندل1
گیت10
قول1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
کرشن بھکتی سنت شاعری1
صوفی تلمیح72
- تمام
- غزل 31
- شعر 1
- صوفیانہ مضامین 7
- ویڈیو 476
- کلام 282
- دکنی صوفی شاعری 4
- صوفی ادب 2
- فارسی کلام 69
- فارسی صوفی شاعری 24
- راگ آدھارت پد 17
- رباعی 23
- صوفیوں کے مکتوب 7
- دوہرا 1
- بھجن 4
- بیت 70
- ابھنگ 4
- صوفی اقوال 878
- وار 1
- نعت و منقبت 314
- قطعہ 2
- صوفی اطلاح 11
- چادر 3
- سہرا 1
- سلام 20
- ہولی 4
- غسل 1
- مخمس 13
- صندل 1
- گیت 10
- قول 1
- کرشن بھکتی صوفی شاعری 1
- کرشن بھکتی سنت شاعری 1
- صوفی تلمیح 72
نا معلوم کے صوفی اقوال
سکون حاصل کرنے کی فکر چھوڑ دو سکون دینے کی فکر کرو تو سکون خود بہ خود مل جائے گا۔
جو شخص اعمالِ خیر کے بغیر قبر میں داخل ہوا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو سمندر میں بغیر کشتی کے داخل ہوا۔
اپنے آپ کو بے جا لالچ اور طمع سے بچاؤ کیوں کہ وہ تنگ دستی اور محتاجی کا پیش خیمہ ہے۔
اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔
عفو در گزر میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے، غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرو۔
ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔
ترقی کا زینا چڑھتے ہوئے لوگوں سے اچھا سلوک کرو نیچے اترتے ہوئے تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔
وہ شخص کیسے تکبر کر سکتا ہے جو مٹی سے بنا ہو، مٹی میں ملنے والا ہو اور مٹی میں کیڑے مکوڑوں کی غدا بننے والا ہو۔
جو انسان لذیز غذاؤں سے اپنا معدہ پُر کر لیتا ہے، اس بھوکے آدمی کی درد ناک التجاؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
نفس سے زیادہ دنیا میں کوئی شے سرکش نہیں اور اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہارے بعد دنیا کی کیا کیفیت ہوگی تو یہ دیکھ لو کہ دوسرے لوگوں کے جانے کے بعد کیا نوعیت رہی۔
جب تین شخص ساتھ میں بیٹھتے ہیں تو دو شخص کان میں بات نہ کریں اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔
جب تم کسی کو اپنا دوست بناؤ تو اپنے دل میں ایک قبرستان بنا لو جہاں تم اس کی برائیاں دفن کر سکو۔
دنیا سوچنے والوں کے لیے طربیہ اور جذبات میں بہہ جانے والوں کے لیے المیہ ہے۔
زندگی میں ایک دوست مل گیا تو بہت ہے، دو مل گیے تو بہت زیادہ ہیں، تین تو مل ہی نہیں سکتے۔
بے شک دلوں میں برے خیالات آتے ہیں مگر عقل و دانش اور خدا کا فضل و کرم انسان کو ان سے دور رکھتے ہیں۔
انسان کی اچھائی کا مدار مال و دولت اور عیش و عشرت پر نہیں بلکہ دل کی سچائی، ذہن کی صفائی اور کردار کی اچھائی پر ہے۔
تاریخ کے مادی نظریہ کی رو سے حقیقی زندگی میں فیصلہ کن عنصر کی پیداوار اس کی تکرار ہے۔
آزمایا جاتا ہے بہادر مقابلے کے وقت، مستقل مزاج مصیبت کے وقت، امانت دار مفلسی کے وقت، محبت فاقہ کے وقت، دوست ضرورت کے وقت، بردبار غصے کے وقت اور شریف انسان معاملہ ٹوٹنے کے وقت اصل کردار آزمائش میں ہی پہچانا جاتا ہے۔
جس چیز سے تم ناواقف ہو اس سے واقف ہونے کی کوشش کرو، کیوں کہ یہ عقلمندی کا پہلا زینہ ہے۔
پاکیزگیوں میں پیسے کی پاکیزگی سب سے ارفع ہے کیوں کہ پاک وہی ہے جو پیسے کو ایمانداری سے کماتا ہے، وہ نہیں جو خود کو مٹی اور پانی سے پاک کرتا ہے۔
عبادت کی طرف توجہ رکھنے سے پہلے لازمی ہے کہ سچی توبہ کر لیں تاکہ نگاہوں کی نجاست سے پاک ہو جائیں۔
جس طرح ہر جرم کی سزا ہوتی ہے اسی طرح ذکر الٰہی سے غفلت کی سزا دنیا کی محبت ہے۔
انسان کو ایک ایسے مکان میں بھیجا گیا ہے جہاں کے تمام حلال و حرام کا محاسبہ کیا جائے گا۔
جس معاشرہ میں نیک نیتی، روشن خیالی اور حسنِ عمل کی توانائی کی نورانی فضا چھائی ہوئی ہوگی اسی کو اچھا معاشرہ کہا جائے گا۔
صالح ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے خوشبو بیچنے والا عطار اور بھٹی پھونکنے والا لوہار۔
اگر مال دار بننا چاہتے ہو تو ضرورت سے زیادہ طلب نہ کرو یہی سب سے عمدہ دولت ہے۔