Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Unknown's Photo'

نا معلوم

نا معلوم کے صوفی اقوال

باعتبار

توبہ گناہوں کو کھا جاتی ہے۔

اگر یہ نظریہ غور سے دیکھا جائے تو تمام گناہوں تمام برائیوں اور تمام جرائم کا سرچشمہ عدم مساوات ہے جب انسان مادی طریقہ پر ہی پیدا ہوتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ درمیانی وقفہ یعنی زندگی کے دن بھی مساویانہ طریقہ پر کیوں نہ گذار دیں۔

خود اعتقادی سے بہادر یقینی طور پر کامیاب ہوتا ہے۔

سب سے پرکشش سمندر وہ ہے جسے ہم میں سے کسی نے دیکھا نہیں، سب سے اچھے دن وہ ہیں جو ہم نے گذارے نہیں، سب سے پیاری باتیں وہ ہیں جنہیں میرے ہونٹ ابھی تک تم سے نہیں کہہ سکے۔

زندگی میں ایک دوست مل گیا تو بہت ہے، دو مل گیے تو بہت زیادہ ہیں، تین تو مل ہی نہیں سکتے۔

اطمینان قدرتی دولت ہے، بے اطمینانی جعلی سکے۔

غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

جب تم سے ہو سکے ہنسو، تندرستی کا یہی راز ہے۔

صدقہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

تکبر علم کو کھا لیتا ہے۔

ظلم عدل کو کھا جاتا ہے۔

غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

پیسہ قرض لے کر چکایا جاسکتا ہے لیکن ہمدردی وہ قرض ہے جسے انسان کبھی نہیں چکا سکتا۔

سماج کی نا مکمل حالت میں نہیں بلکہ اپنی خامی کے بارے میں سوچنے والا شخص ایک دن سماج کی تکمیل کے قابل بن سکتا ہے۔

تم جس سے بھلائی نہ کر سکے اس سے بھلائی کی امید نہ رکھو۔

اگر تمہارے پاس دو پیسے ہوں تو ایک سے روٹی خریدو اور دوسرے سے پھول، روٹی تمہیں زندگی دے گی اور پھول تمہیں جینے کا فن سکھائے گا۔

اشتراکیت دو ہی جگہوں پر قائم ہے شہد کی مکھیوں کے چھتے میں اور چیونٹیوں کے پاؤں میں۔

صحت صرف محنت میں ہے، محنت کے علاوہ کسی دوسری چیز سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔

اچھا انسان اپنے دشمن کے لیے اس سے بہتر ہوتا ہے جتنا کہ ایک دوست کے لیے ہوتا ہے۔

ساکن سمندر کی لہریں بھی متحرک ہیں۔

بے انصافی برداشت کرنے والا ہی مجرم ہوتا ہے، اگر اسے برداشت نہ کیا جائے تو پھر کوئی بھی شخص کسی سے بے انصافی نہیں کرسکے گا۔

غم عمر کو کھا کر کم کر دیتا ہے۔

غم عمر کو کھا کر کم کر دیتا ہے۔

صحیح کام ہی دھول میں پھول کی طرح کھلتے ہیں اور مہکتے ہیں۔

تنہائی احمق کے لیے قید خانہ ہے اور عالم کے لیے جنت۔

جھوٹ رزق کو چٹ کر جاتا ہے۔

دنیا میں جتنے بڑے حصول ہیں تعلیم ان سب میں بڑھ کر ہے۔

اعتماد سے بڑھ کر کوئی دوا نہیں ہے، علاج تو محض ایک بہانہ ہے۔

توبہ گناہوں کو کھا جاتی ہے۔

اچھا بننا ہے تو اچھو کی صحبت اختیار کرو۔

جس شخص سے محبت کرو اس سے شک و شبہ کرنا حماقت ہے۔

معرفت کی حالت اٹھتے ہوئے لہروں کی طرح ہے، وہ اٹھاتی ہے اور پھر نیچے دھکیل دیتی ہے۔

صدقہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

بری بات کی مخالفت باہمت آدمی ہی کا کام ہے۔

دوستی روح کی شاعری ہے۔

جسے دکھ کا خوف ہے اسے خوف کا دکھ ہے۔

سچائی میں تو خوف و خطرہ ہے لیکن وہ باعثِ نجات ہے، جھوٹ میں توبہ ظاہر عافیت نظر آئے گی لیکن وہ موجبِ ہلاکت ہے۔

بے عزتی سزا پانے میں نہیں ظلم کرنے میں ہے۔

اگر علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو انکساری سے کام لے اور جب علم حاصل کر لے تو اور بھی منکسر ہوجا۔

غیبت عمل کو کھا جاتی ہے۔

سب سے بڑی کدورت یہ ہے کہ تو دوسروں کی مصیبت کے انتظار میں اپنے دل کو اضطراب میں رکھے۔

جب تک تم کوئی چیز نہ خرید لو، تب تک پرانی چیز مت پھینکو۔

اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔

زندگی ایک پھول ہے اور محبت اس کا شہد۔

جہاں پیسہ ہے وہاں شیطان ہے، جہاں پیسہ نہیں ہے اس سے بھی بڑا شیطان ہے۔

آج تک کوئی ایسا عظیم انسان نہیں گذرا جو اعلیٰ چال چلن کا مالک نہ ہو۔

دشمن کو معاف کر دینا انتقام لینے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔

دوسروں کے تجربوں کو جان لینا بھی ایک تجربہ ہے۔

اچھا اور پاکیزہ دل اچھے دماغوں سے بہتر ہے۔

پشیمانی سخاوت کو کھا جاتی ہے۔

Recitation

بولیے