Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Riyaz Khairabadi's Photo'

ریاض خیرآبادی

1855 - 1936 | خیرآباد, بھارت

خیرآباد کے معروف شاعر

خیرآباد کے معروف شاعر

ریاض خیرآبادی کے اشعار

باعتبار

ہیں صدقے کسے آج پیار آ گیا

یہ کون آ گیا میرے آغوش میں

ہمیں خدا کے سوا کچھ نظر نہیں آتا

نکل گئے ہیں بہت دور جستجو کرتے

حسین بھی ہوں خوش آواز بھی فرشتۂ قبر

کٹی ہے عمر حسینوں سے گفتگو کرتے

سنا ہے ہم نے بہت کچھ کلیم کے منہ سے

ہم آئیں تو ہمیں آواز ہی سنا دینا

ہمیں ہے گھر سے تعلق اب اس قدر باقی

کبھی جو آئے تو دو دن کو مہماں کی طرح

اے قیامت آ بھی تیرا ہو رہا ہے انتظار

ان کے در پر لاش اک رکھی ہے کفنائی ہوئی

وہ کون ہے دنیا میں جسے غم نہیں ہوتا

کس گھر میں خوشی ہوتی ہے ماتم نہیں ہوتا

ریاضؔ موت ہے اس شرط سے ہمیں منظور

زمیں ستائے نہ مرنے پہ آسماں کی طرح

خدا جانے دکھائے گی یہ کیا رنگ

دعائیں جمع ہیں عرش بریں پر

حرم ہے جائے ادب کام دے گی جنت میں

فرشتو طاق سے بوتل ذرا اٹھا دینا

وہ کچھ غیر سے وعدہ فرما رہے ہیں

مرے سر کی جھوٹی قسم کھا رہے ہیں

اڑتی تھی وہ شے آتی تھیں جنت کی ہوائیں

اب رندوں کا جمگھٹ سر زمزم نہیں ہوتا

بلا ہے قبر کی شب اس سے بڑھ کے حشر کے دن

نہ آؤں ہوش میں اتنی مجھے پلا دینا

سمائے ہیں اپنے نگاہوں میں ایسے

جب آئینہ دیکھا ہے حیراں ہوئے ہیں

خدا جانے کہتا ہوں مستی میں کیا

خدا جانے بکتا ہوں کیا جوش میں

شاد کے نام سے ہر رنج و خوشی ہو کے ریاضؔ

صدر اعظم کو شب و روز دعا دیتا ہے

اے شب فرقت نہ آئی تجھ کو شرم

غیر کے گھر جا کے منہ کالا کیا

کلیم بات بڑھاتے نہ گفتگو کرتے

لب خاموش سے اظہار آرزو کرتے

کچھ آوازیں آتی ہیں سنسان شب میں

اب ان سے بھی خالی بیاباں ہوئے ہیں

بہت ہی خیر گزری ہوتے ہوتے رہ گئی اس سے

جسے میں غیر سمجھا ہوں وہ ان کا پاسباں ہوگا

کمر سیدھی کرنے ذرا میکدے میں

عصا ٹیکتے کیا ریاضؔ آ ہے ہیں

نہ لالہ زار بنانا مزار کو نہ سہی

چراغ کے آگے کبھی شام کو جلا دینا

نہیں پڑتے ہیں زمیں پر جو ترے نقش قدم

کیوں اڑے رنگ حنا غیر کے گھر جانے میں

یہ دل کی تڑپ کیا لحد کو ہلاتی

تمہیں قبر پر پاؤں دھرنا نہ آیا

رنگ پر کل تھا ابھی لالۂ گلشن کیسا

بے چراغ آج ہے ہر ایک نشیمن کیسا

آرام ہو سکون ہو سارے جہان کو

جنبش نہ ہو زمیں کی طرح آسمان کو

کلیم بات بڑھاتے نہ گفتگو کرتے

لب خاموش سے اظہار آرزو کرتے

جبہ سائی جس سے کی قسمت چمک اٹھی ریاضؔ

حضرت ساحرؔ کے در سے کیوں ہمارا سر اٹھے

اور بھی چاند کی شکلیں ہیں نہیں آپ نہ ہوں

نور کی شمعیں نہیں روشن مرے کاشانے میں

ہوا کیا پڑا آئینہ بیچ میں

یہ تھا کون کس سے لڑائی ہوئی

کہتے ہیں مہک کر گل مضمون مناقب

پھولوں میں ریاضؔ آپ کے خوشبوئے علی ہے

موج طوفاں پھینک دے گی اس کو ساحل کی طرف

پار اب کشتی مری اے ناخدا ہو جائے گی

تم جا کے چمن میں گل و بلبل کو تو دیکھو

کیا لطف تہہ چادر شبنم نہیں ہوتا

تیغ ہی کیا ہاتھ میں قاتل کے تھی

اے حنا تو بھی تو سانی جائے گی

کوئی مست مے کدہ آ گیا مے بے خودی پلا گیا

نہ صدائے نغمۂ دیر اٹھے نہ حرم سے شور اذاں اٹھا

یہ انسان بن جائیں کچھ ساتھ رہ کر

فرشتوں کو ہم راہ پر لا رہے ہیں

حشر میں قاتل نے دیکھی ہے لہو کی کوئی چھینٹ

سوئے دامن کیوں جھکی ہے آنکھ شرمائی ہوئی

بے پیے بھی صبح محشر ہم کو لغزش ہے بہت

قبر سے کیوں کر اٹھیں بار گناہ کیوں کر اٹھے

جاتے جاتے عرصہ گاہ حشر تک جو حال ہو

اٹھتے اٹھتے قبر میں سو فتنۂ محشر اٹھے

وہیں آ بیٹھا اٹھ کر ادھر سے

ملا ہے گھر مرا دشمن کے گھر سے

وہ مل کے دست حنائی سے دل لہو کرتے

ہم آرزو کو حسیں خون آرزو کرتے

اے اسیران قفس آنے کو ہے فصل خزاں

چار دن میں اور گلشن کی ہوا ہو جائے گی

اے اسیران قفس آنے کو ہے فصل خزاں

چار دن میں اور گلشن کی ہوا ہو جائے گی

فرشتے مرے بانٹ لیں کچھ گناہ

کمی ہو گر انباری دوش میں

نہ ترسا انہیں آب خنجر کو قاتل

دعائیں تجھے دیں گے بسمل ہزاروں

یہ گلچیں نے کیوں پھول گلشن میں توڑا

کہ اس پر ہیں ٹوٹے عنا دل ہزاروں

ایسے بھی ہیں دنیا میں جنہیں غم نہیں ہوتا

اک غم ہے ہمارا جو کبھی کم نہیں ہوتا

رات دن انگڑائیاں وہ لیں میری آغوش میں

جن حسینوں کے لبے پیدا یہ انگڑائی ہوئی

بنے شعلے بجلی کے قسمت سے میری

جو تنکے تھے کچھ آشیانے کے قابل

گراں ہے توبہ کو مینا کا شور قلقل بھی

یہ گل مچائے تو اس کا گلا دبا دینا

Recitation

بولیے