تمام
غزل30
شعر54
ویڈیو 9
تعارف
کلام7
فارسی کلام1
فارسی صوفی شاعری4
رباعی1
بیت3
نعت و منقبت6
ہولی1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
حسرت موہانی کے اشعار
شب غم کس آرام سے سو گئے ہم
فسانہ تری یاد کا کہتے کہتے
لگا کر آنکھ اس جان جہاں سے
نہ ہوگا اب کسی سے آشنا دل
ترے غم کو دنیا میں اے جان عالم
کوئی روح محروم راحت نہیں ہے
نہ کر ناصحا ضبط غم کی نصیحت
کہ ہے صبر دشوار جان حزیں پر
کثرت امید بھی عیش آفریں ہونے لگی
انتظار یار بھی راحت فزا ہونے لگا
الٰہی رنگ یہ کب تک رہے گا ہجر جاناں میں
کہ روز بے دلی گزرا تو شام انتظار آئی
کچھ خبر ہے تجھ کو اے آسودۂ خواب لحد
شب جو تیری یاد میں ہم تا سحر رویا کئے
نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے
وہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے
ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ
اب آگے تیری خوشی ہے سرفراز کرے
رائیگاں حسرتؔ نہ جائے گا مرا مشت غبار
کچھ زمیں لے جائے گی کچھ آسماں لے جائے گا
کیا کہا میں نے جو ناحق تم خفا ہونے لگے
کچھ سنا بھی یا کہ یوں ہی فیصلہ ہونے لگا
وہیں سے یہ آنسو رواں ہیں جو دل میں
تمنا کا پوشیدہ ہے اک خزینہ
پہلے تو خون میرا بہایا خوشی خوشی
پھر کیا وہ خود ہی سوچے کہ پچھتا کے رہ گئے
تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال
دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا
بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا
اب تو اظہار محبت برملا ہونے لگا
غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف
وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے
چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے
ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے
عشق سے پھر خطرۂ ترک وفا ہونے لگا
پھر فریب حسن سرگرم ادا ہونے لگا
برق کا اکثر یہ کہنا یاد آتا ہے مجھے
تنکے چنوانے لگی ہم سے جدائی آپ کی
ہو رہا ہے غیر مجھ سے بد گماں
ہنس رہی ہے پاک دامانی مری
نہ آئیں گے وہ حسرتؔ انتظار شوق میں یو نہیں
گزر جائیں گے ایام بہار آہستہ آہستہ
خوشی سے ختم کر لے سختیاں قید فرنگ اپنی
کہ ہم آزاد ہیں بیگانۂ رنج دل آزاری
محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے
کہو تو ایسی کیا سرزد ہوئی آخر خطا مجھ سے
دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد
ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے
ہم سے کہتے ہیں کریں گے آج اظہار کرم
اس سے کچھ مطلب نہیں محفل میں تو ہو یا نہ ہو
مجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کر
وہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے
عجب ہیں یہ راز و نیاز محبت
خفا کیوں ہوئے وہ ہیں اس پر خفا ہم
غیر سے مل کر انہیں ناحق ہوا میرا خیال
مجھ سے کیا مطلب بھلا میں کیوں خفا ہونے لگا
جفا کو وفا سمجھیں کب تک بھلا ہم
اب ایسے بھی ان کے نہیں مبتلا ہم
کیوں نہ ہوں تیری محبت سے منور جان و دل
شمع جب روشن ہوئی گھر میں اجالا کر دیا
ملیں بھی وہ تو کیونکر آرزو بر آئے گی دل کی
نہ ہوگا خود خیال ان کو نہ ہوگی التجا مجھ سے
کثرت امید بھی عیش آفریں ہونے لگی
انتظار یار بھی راحت فزا ہونے لگا
نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے
شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں
ہوئی اس میں اک گرمیٔ شوق پیدا
پڑی جو نظر اس رخ آتشیں پر
مٹے افکار گوناگوں کے جھگڑے
ترے غم کو نہ دے کیونکر دعا دل
پڑھ کے تیرا خط مرے دل کی عجب حالت ہوئی
اضطراب شوق نے اک حشر برپا کر دیا
سکون قلب کی امید اب کیا ہو کہ رہتی ہے
تمنا کی دو چار اک ہر گھڑی برق بلا مجھ سے
ارادہ آج بے خوف و خطر ہے ان کی محفل کا
محبت میں کوئی دیکھے تو یہ دیوانہ پن اپنا
دل ربائی کا بھی کچھ کچھ ڈھب انہیں آنے لگا
بات مطلب کی اشاروں میں ادا کرنے لگے
عاشقوں کے ہوں گے راہ یار میں کیا کیا ہجوم
شوق جن کو کارواں در کارواں لے جائے گا
ملیں بھی وہ تو کیونکر آرزو بر آئے گی دل کی
نہ ہوگا خود خیال ان کو نہ ہوگی التجا مجھ سے
نہ پہنچے گی کبھی کیا گوش گل تک
قفس سے اڑ کے فریاد عنادل
وہ کیوں بگڑے مرے شور فغاں سے
شکایت ان سے تھی یا آسماں سے
مرے دل سے ہے راضی غم تمہارا
نہ کہنا اب یہ کاشانہ برا ہے
جفا کاری ہے تسلیم ستم بھی
نہ ہوگا تابع جور و جفا دل
آرزو کے دل پہ آئیں گی نہ کیا کیا آفتیں
در پیے انکار ہے ناآشنائی آپ کی
کچھ اس عالم میں وہ بے پردہ نکلے سیر گلشن کو
کہ نسریں اپنی خوشبو رنگ بھولی نسترن اپنا
بڑی درگاہ کا سائل ہوں حسرتؔ
بڑی امید ہے میری بڑا دل
آرزو لازم ہے وجہ آرزو ہو یا نہ ہو
التفات اس کافر خود بیں کی خو ہو یا نہ ہو
ہنسی عبرت بہت جب رنگ گل کی بے ثباتی نے
چمن میں عندلیب سادہ دل کو شادماں پایا