Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Hasrat Mohani's Photo'

حسرت موہانی

1875 - 1951 | اناو, بھارت

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

مجاہد آزادی اور آئین ساز اسمبلی کے رکن ، ’انقلاب زندہ باد‘ کا نعرہ دیا ، شری کرشن کے معتقد ، اپنی غزل ’ چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے‘ کے لئے مشہور

حسرت موہانی کے اشعار

باعتبار

شب غم کس آرام سے سو گئے ہم

فسانہ تری یاد کا کہتے کہتے

لگا کر آنکھ اس جان جہاں سے

نہ ہوگا اب کسی سے آشنا دل

ترے غم کو دنیا میں اے جان عالم

کوئی روح محروم راحت نہیں ہے

نہ کر ناصحا ضبط غم کی نصیحت

کہ ہے صبر دشوار جان حزیں پر

الٰہی رنگ یہ کب تک رہے گا ہجر جاناں میں

کہ روز بے دلی گزرا تو شام انتظار آئی

کثرت امید بھی عیش آفریں ہونے لگی

انتظار یار بھی راحت فزا ہونے لگا

کچھ خبر ہے تجھ کو اے آسودۂ خواب لحد

شب جو تیری یاد میں ہم تا سحر رویا کئے

نگاہ یار جسے آشنائے راز کرے

وہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ کیوں نہ ناز کرے

ترے کرم کا سزاوار تو نہیں حسرتؔ

اب آگے تیری خوشی ہے سرفراز کرے

رائیگاں حسرتؔ نہ جائے گا مرا مشت غبار

کچھ زمیں لے جائے گی کچھ آسماں لے جائے گا

بام پر آنے لگے وہ سامنا ہونے لگا

اب تو اظہار محبت برملا ہونے لگا

عشق سے پھر خطرۂ ترک وفا ہونے لگا

پھر فریب حسن سرگرم ادا ہونے لگا

غیر کی نظروں سے بچ کر سب کی مرضی کے خلاف

وہ ترا چوری چھپے راتوں کو آنا یاد ہے

برق کا اکثر یہ کہنا یاد آتا ہے مجھے

تنکے چنوانے لگی ہم سے جدائی آپ کی

ہو رہا ہے غیر مجھ سے بد گماں

ہنس رہی ہے پاک دامانی مری

پہلے تو خون میرا بہایا خوشی خوشی

پھر کیا وہ خود ہی سوچے کہ پچھتا کے رہ گئے

وہیں سے یہ آنسو رواں ہیں جو دل میں

تمنا کا پوشیدہ ہے اک خزینہ

کیا کہا میں نے جو ناحق تم خفا ہونے لگے

کچھ سنا بھی یا کہ یوں ہی فیصلہ ہونے لگا

تیری محفل سے اٹھاتا غیر مجھ کو کیا مجال

دیکھتا تھا میں کہ تو نے بھی اشارہ کر دیا

خوشی سے ختم کر لے سختیاں قید فرنگ اپنی

کہ ہم آزاد ہیں بیگانۂ رنج دل آزاری

نہ آئیں گے وہ حسرتؔ انتظار شوق میں یو نہیں

گزر جائیں گے ایام بہار آہستہ آہستہ

چپکے چپکے رات دن آنسو بہانا یاد ہے

ہم کو اب تک عاشقی کا وہ زمانہ یاد ہے

محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے

کہو تو ایسی کیا سرزد ہوئی آخر خطا مجھ سے

غیر سے مل کر انہیں ناحق ہوا میرا خیال

مجھ سے کیا مطلب بھلا میں کیوں خفا ہونے لگا

ہم سے کہتے ہیں کریں گے آج اظہار کرم

اس سے کچھ مطلب نہیں محفل میں تو ہو یا نہ ہو

مجھے گرم نظارہ دیکھا تو ہنس کر

وہ بولے کہ اس کی اجازت نہیں ہے

عجب ہیں یہ راز و نیاز محبت

خفا کیوں ہوئے وہ ہیں اس پر خفا ہم

عاشقوں کے ہوں گے راہ یار میں کیا کیا ہجوم

شوق جن کو کارواں در کارواں لے جائے گا

ملیں بھی وہ تو کیونکر آرزو بر آئے گی دل کی

نہ ہوگا خود خیال ان کو نہ ہوگی التجا مجھ سے

نہ پہنچے گی کبھی کیا گوش گل تک

قفس سے اڑ کے فریاد عنادل

کیوں نہ ہوں تیری محبت سے منور جان و دل

شمع جب روشن ہوئی گھر میں اجالا کر دیا

ارادہ آج بے خوف و خطر ہے ان کی محفل کا

محبت میں کوئی دیکھے تو یہ دیوانہ پن اپنا

جفا کو وفا سمجھیں کب تک بھلا ہم

اب ایسے بھی ان کے نہیں مبتلا ہم

دل ربائی کا بھی کچھ کچھ ڈھب انہیں آنے لگا

بات مطلب کی اشاروں میں ادا کرنے لگے

وہ کیوں بگڑے مرے شور فغاں سے

شکایت ان سے تھی یا آسماں سے

مرے دل سے ہے راضی غم تمہارا

نہ کہنا اب یہ کاشانہ برا ہے

دلوں کو فکر دوعالم سے کر دیا آزاد

ترے جنوں کا خدا سلسلہ دراز کرے

امیدوار ہیں ہر سمت عاشقوں کے گروہ

تری نگاہ کو اللہ دل نواز کرے

تری خوئے برہم سے واقف تھی پھر بھی

ہوئے مفت شرمندۂ التجا ہم

ملامت ہی لکھی ہے سربسر کیا

مری قسمت میں تیرے پاسباں سے

جفا کاری ہے تسلیم ستم بھی

نہ ہوگا تابع جور و جفا دل

آرزو کے دل پہ آئیں گی نہ کیا کیا آفتیں

در پیے انکار ہے ناآشنائی آپ کی

کچھ اس عالم میں وہ بے پردہ نکلے سیر گلشن کو

کہ نسریں اپنی خوشبو رنگ بھولی نسترن اپنا

بڑی درگاہ کا سائل ہوں حسرتؔ

بڑی امید ہے میری بڑا دل

آرزو لازم ہے وجہ آرزو ہو یا نہ ہو

التفات اس کافر خود بیں کی خو ہو یا نہ ہو

ہنسی عبرت بہت جب رنگ گل کی بے ثباتی نے

چمن میں عندلیب سادہ‌ دل کو شادماں پایا

امیدیں تجھ سے تھیں وابستہ لاکھوں آرزو لیکن

بہت ہو کر تری درگاہ سے بے اعتبار آئی

سکون قلب کی امید اب کیا ہو کہ رہتی ہے

تمنا کی دو چار اک ہر گھڑی برق بلا مجھ سے

ملیں بھی وہ تو کیونکر آرزو بر آئے گی دل کی

نہ ہوگا خود خیال ان کو نہ ہوگی التجا مجھ سے

پڑھ کے تیرا خط مرے دل کی عجب حالت ہوئی

اضطراب شوق نے اک حشر برپا کر دیا

Recitation

بولیے