تمام
چوپائی8
شعر1
دوہا4
ویڈیو 5
تعارف
راگ آدھارت پد6
ساکھی138
ہوری1
سورٹھا3
جھولنا1
بھجن1
ابھنگ1
شبد7
کبیر کی ساکھی
پربت پربت مے پھری نین گنوایو روئے
سو بوٹی پائیوں نہیں جا تیں جیون ہوئے
عنبر کُجّا کری لیا گرجی بھرے سب تال
جن تیں پریتم بیچھُرا تن کا کون ہوال
گھاٹہی پانی سب بھرے اوگھٹ بھرے نہ کوے
اوگھٹ گھاٹ کبیرؔ کا بھرے سو نرمل ہوے
گلوں تمہارے نام پر جیوں آٹے میں نون
ایسا برہا میل کری نت دکھ پاوئے کون
باسر سکھ نہی رین سکھ نا سکھ سپنے ماہں
ست گرو سے جو بیچھُرے تن کو دھوپ نہ چھانہی
ست گرو دین دیال ہے دیا کری موہیں آئے
کوٹی جنم کا پنتھ تھا پل میں پہنچا جائے
نانو نہ جانے گاؤں کا بن جانے کت جانو
چلتے چلتے جگ بھیا پاؤ کوس پر گاؤں
چلن چلن سب کوئ کہئے موہں اندیسا اور
صاحب سے پرچیہ نہیں پہنچیں گے کیہی ٹھور
جیرا یوں لے ہویگا برہ تپائے تپائے
انکھیاں پریم بسائیا جانی جانے دکھدائے
کبیرؔ مارگ کٹھن ہے سب منی بیٹھے تھاکی
تہاں کبیراؔ چڑھی گیا گہی ست گرو کی ساکھی
جب لگی مرنے سے جرے تب لگی پریم نانہیں
بڑی دور ہے پریم گھر سمجھی لیہُ من ماہں
سبئے رساین میں کیا پریم سمان نہ کوے
رتی اک تن میں سنچرے سب تن کنچن ہوئے
کبیرؔ پیالہ پریم کا انتر لیا لگائے
روم روم میں رمی رہا اور عمل بیا کھاے
سو دن کیسا ہویگا گرو گہینگے بانہی
اپنا کری بیٹھاوہیں چرن کنول کی چھانہی
سادھو سیپ سمدر کے ستگرو سوانتی بند
ترشا گئی اک بوند سے کیا لے کروں سمند
جو آوے تو جائے نہں جائے تو آوے نانہں
اکتھ کہانی پریم کی سمجھی لیہُ من ماہں
برہ بھونگم پیٹھی کئے کیا کلیجے گھاؤ
بِرہِن انگ نہ موڑہے جیوں بھاوئے تیوں کھاو
یہی پریم نرباہیے رہنی کنارے بیٹھی
ساگر تیں نیارا رہا گیا لہری میں پیٹھی
دیکھت دیکھت دن گیا نس بھی دیکھت جائے
برہن پیہ پاوئے نہیں بیکل جئے گھبرائے
پییا جاہے پریم رس راکھا چاہئے مان
ایک میان میں دو کھڑگ دیکھا سنا نہ کان
کیڑے کاٹھ جو کھائیا کھات کنہوں نہی دیٹھ
چھال اپاری جو دیکھیا بھیتر جمیا چیٹھ
برہ جلنتی دیکھی کر سائیں آئے دھائے
پریم بوند سے چھرکی کے جلتی لئی بجھائے
پریم پانوری پہری کئے دھیرج کاجر دیئ
سیل سندور بھرائی کئے یوں پیا کا سکھ لئی
پرینم چھپایا نا چھپے جا گھٹ پرگھٹ ہوئے
جو پے مکھ بولئے نہیں تو نین دیت ہیں رویے
پریم بھاؤ اک چاہئیے بھیش انیک بناے
بھاوے گرہ میں باس کر بھاوے بن میں جائے
اتم پریت سو جانئے ستگرو سے جو ہوئے
گنونتا او دربیہ کی پریتی کرے سب کوئے
نینوں کی کری کوٹھری پتلی پلنگ بچائے
پلکوں کی چک ڈاری کئے پیا کو لیا رجھائے
ہنس ہنس کنت نہ پائیا جن پایہ تن رویے
ہانسی کھیلے پیہ ملیں تو کون دہاگنی ہوئے
انک بھری بھری بھینٹیے من نہیں باندھے دھیر
کہہ کبیرؔ تے کیا ملے جب لگی دوئے سریر
کبیرؔ چندن کے نکٹ نیم بھی چندن ہوئے
بوڑے بانس بڑائیا یوں جانی بوڑو کوے