Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Kabeer's Photo'

کبیر

1398 - 1518 | اتر پردیش, بھارت

کبیر کی ساکھی

باعتبار

پربت پربت مے پھری نین گنوایو روئے

سو بوٹی پائیوں نہیں جا تیں جیون ہوئے

پریم بنا دھیرج نہیں برہ بنا بیراگ

ستگرو بن جاوئے نہیں من منسا کا داغ

عنبر کُجّا کری لیا گرجی بھرے سب تال

جن تیں پریتم بیچھُرا تن کا کون ہوال

برہ بھونگم تن ڈسا منتر نہ لاگے کوئے

نام بیوگی نا جیے جیے تو باؤر ہوئے

گھاٹہی پانی سب بھرے اوگھٹ بھرے نہ کوے

اوگھٹ گھاٹ کبیرؔ کا بھرے سو نرمل ہوے

گلوں تمہارے نام پر جیوں آٹے میں نون

ایسا برہا میل کری نت دکھ پاوئے کون

باسر سکھ نہی رین سکھ نا سکھ سپنے ماہں

ست گرو سے جو بیچھُرے تن کو دھوپ نہ چھانہی

ست گرو دین دیال ہے دیا کری موہیں آئے

کوٹی جنم کا پنتھ تھا پل میں پہنچا جائے

پریم بکتا میں سنا ماتھا ساٹے ہاٹ

بوجھت بلمب نہ کیجیے تت چھن دیجئے کاٹ

میرا من تو تجھ سے تیرا من کہں اور

کہہ کبیر کیسے بنئے ایک چت دئ ٹھور

نانو نہ جانے گاؤں کا بن جانے کت جانو

چلتے چلتے جگ بھیا پاؤ کوس پر گاؤں

چلن چلن سب کوئ کہئے موہں اندیسا اور

صاحب سے پرچیہ نہیں پہنچیں گے کیہی ٹھور

جیرا یوں لے ہویگا برہ تپائے تپائے

انکھیاں پریم بسائیا جانی جانے دکھدائے

کبیرؔ مارگ کٹھن ہے سب منی بیٹھے تھاکی

تہاں کبیراؔ چڑھی گیا گہی ست گرو کی ساکھی

جب لگی مرنے سے جرے تب لگی پریم نانہیں

بڑی دور ہے پریم گھر سمجھی لیہُ من ماہں

بہت دنن کی جووتی رٹت تمہارو نام

جیو ترسئے تو ملن کو من ناہیں وسرام

سبئے رساین میں کیا پریم سمان نہ کوے

رتی اک تن میں سنچرے سب تن کنچن ہوئے

برہا مو سے یوں کہے گاڑھا پکڑو موہں

چرن کمل کی موج میں لے پہنچاؤں توہں

کبیرؔ پیالہ پریم کا انتر لیا لگائے

روم روم میں رمی رہا اور عمل بیا کھاے

مانس گیا پنجر رہا تاکن لاگے کاگ

صاحب اجہں نہ آئیا مند ہمارے بھاگ

سو دن کیسا ہویگا گرو گہینگے بانہی

اپنا کری بیٹھاوہیں چرن کنول کی چھانہی

سادھو سیپ سمدر کے ستگرو سوانتی بند

ترشا گئی اک بوند سے کیا لے کروں سمند

جو آوے تو جائے نہں جائے تو آوے نانہں

اکتھ کہانی پریم کی سمجھی لیہُ من ماہں

امرت کیری موٹری راکھی ستگرو چھوری

آپ سریکھا جو ملے تاہی پلاویں گھوری

برہ بھونگم پیٹھی کئے کیا کلیجے گھاؤ

بِرہِن انگ نہ موڑہے جیوں بھاوئے تیوں کھاو

سو جوجن ساجن بسے مانو ہردیہ منجھار

کپٹ سنیہی آنگنے جانو سمندر پار

سکھیا سب سنسار ہے کھاوئے او سووے

دکھیا داس کبیرؔ ہے جاگئے او روئے

یہی پریم نرباہیے رہنی کنارے بیٹھی

ساگر تیں نیارا رہا گیا لہری میں پیٹھی

دیکھت دیکھت دن گیا نس بھی دیکھت جائے

برہن پیہ پاوئے نہیں بیکل جئے گھبرائے

جوگی جنگم سیوڑا سنیاسی درویش

بنا پریم پہنچئے نہیں درلبھ ستگرو دیس

چوڑی پٹکوں پلنگ سے چولی لاؤں آگی

جا کارن یہ تن دھرا نا سوتی گل لاگی

پییا جاہے پریم رس راکھا چاہئے مان

ایک میان میں دو کھڑگ دیکھا سنا نہ کان

کیڑے کاٹھ جو کھائیا کھات کنہوں نہی دیٹھ

چھال اپاری جو دیکھیا بھیتر جمیا چیٹھ

ادھک سنیہی ماچھری دوجا الپ سنہے

جبہیں جل تیں بیچھرے تبہی تیاگے دینہ

انکھین تو جھانئیں پری پنتھ نہار نہار

جبھیا تو چھالا پرا نام پکار پکار

کبیر چنگی برہ کی مو تن پڑی اڑائے

تن جری دھرتی ہو جری عنبر جریا جائے

مریے تو مری جائیے چھٹی پرئے جنجار

ایسا مرنا کو مرے دن میں سو سو بار

برہ جلنتی دیکھی کر سائیں آئے دھائے

پریم بوند سے چھرکی کے جلتی لئی بجھائے

پریم پانوری پہری کئے دھیرج کاجر دیئ

سیل سندور بھرائی کئے یوں پیا کا سکھ لئی

پرینم چھپایا نا چھپے جا گھٹ پرگھٹ ہوئے

جو پے مکھ بولئے نہیں تو نین دیت ہیں رویے

پریم بھاؤ اک چاہئیے بھیش انیک بناے

بھاوے گرہ میں باس کر بھاوے بن میں جائے

برہا برہا مت کہوں برہا ہے سلطان

جا گھٹ برہ نہ سنچرے سو گھٹ جان مسان

اتم پریت سو جانئے ستگرو سے جو ہوئے

گنونتا او دربیہ کی پریتی کرے سب کوئے

نینوں کی کری کوٹھری پتلی پلنگ بچائے

پلکوں کی چک ڈاری کئے پیا کو لیا رجھائے

ایکم ایکا ہون دے بنسن دے کیلاس

دھرتی عنبر جان دے مو میں میرے داس

ہنس ہنس کنت نہ پائیا جن پایہ تن رویے

ہانسی کھیلے پیہ ملیں تو کون دہاگنی ہوئے

گاگر اوپر گاگری چولے اوپر دوار

سُلی اوپر سانتھرا جہاں بلابئے یار

انک بھری بھری بھینٹیے من نہیں باندھے دھیر

کہہ کبیرؔ تے کیا ملے جب لگی دوئے سریر

کبیرؔ چندن کے نکٹ نیم بھی چندن ہوئے

بوڑے بانس بڑائیا یوں جانی بوڑو کوے

آیا پریم کہاں گیا دیکھا تھا سب کوئے

چھن روئے چھن میں ہنسے سو تو پریم نہ ہوئے

Recitation

بولیے