حضرت علی کے صوفی اقوال
بہادر وہ نہیں جو شیر کو مار ڈالے بلکہ بہادر وہ ہے جس نے خواہشِ نفس کو مار ڈالا۔
خدا سے صلح رکھ تا کہ عاقبت سلامت رہے، لوگوں سے صلح رکھ تا کہ دنیا برباد نہ ہو۔
کسی جاہل کو اس سے شرم نہیں آتی کہ اس سے ایسی چیزیں پوچھی جائیں جن کو وہ نہیں جانتا اور عالم کو اس سے شرم نہیں آتی کہ جب اس سے ایسی بات پوچھی جائے جس کو وہ نہیں جانتا تو کہہ دے اللہ بہتر جانتا ہے۔
آدمی تین قسم کے ہیں۔
(۱) عالم ربانی (۲) نجات کے خیال سے طلب علم کرنے والے (۳) باقی لوگ ہر آواز پر دوڑ پڑنے والے اجڈ گنوار ہیں۔
علم حاصل کرو مگر عقل و وقار کے زیور سے بھی آراستہ رہو، استادوں اور شاگردوں کے ساتھ خاکسار رہو۔
سب سے کھٹن کام تین ہیں۔
(۱)اپنے نفس سے حق دلوانا (۲) ہر حال میں خدا کو یاد کرنا (۳) مال سے بھائی کی غمخواری کرنا۔
بخیل دنیا میں زندگی فقیروں جیسی گزارتا ہے لیکن عاقبت میں حساب امیروں جیسا ہوگا۔
اپنے قلب کو نصیحت سے توانائی دو، حکمت سے منور کرو اور لوگوں سے بے نیاز ہو کر اسے قوت پہنچاؤ۔
صبر کا مرتبہ ایمان سے وہ ہے جو سر کو تمام جسم سے پس جیسے سر جانے سے جسم بے جان و بے کار ہو جاتا ہے، علیٰ ھذا القیاس اگر صبر نہ رہا تو ایمان بھی نہ رہے گا۔
حسد کے ساتھ راحت نہیں، انتقام کے ساتھ سرداری نہیں، بے ادبی کے ساتھ بزرگی نہیں، نافرمانی کے ساتھ فلاح نہیں۔
تیرا مال وہی ہے جو تو نے راہِ حق میں خرچ کیا اور مستحقوں کو دے کر آگے بھیجا۔
دولت مندوں کے ہزاروں دشمن ہوتے ہیں لیکن علم والے کی عزت بڑھتی ہے اور وہ عالم کہلاتا ہے، دولت فرعون کا ترکہ ہے اور علم پیغمبروں کی میراث ہے۔
حکمت ایک درخت ہے جو دل میں اگتا ہے دماغ میں پلتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔