Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Hazrat Ali's Photo'

حضرت علی

599 - 666 | مدینہ, سعودیہ عربیہ

تصوف اور روحانیت کے عظیم پیشوا اور حضرت رسول اللہ کے خویش محترم

تصوف اور روحانیت کے عظیم پیشوا اور حضرت رسول اللہ کے خویش محترم

حضرت علی کے صوفی اقوال

6
Favorite

باعتبار

بہادر وہ نہیں جو شیر کو مار ڈالے بلکہ بہادر وہ ہے جس نے خواہشِ نفس کو مار ڈالا۔

گھر لینے سے پہلے اس گھر کے پڑوسیوں سے متعلق معلومات حاصل کرو۔

لالچی ذلت و خواری کی قید میں مبتلا ہے۔

خدا سے صلح رکھ تا کہ عاقبت سلامت رہے، لوگوں سے صلح رکھ تا کہ دنیا برباد نہ ہو۔

بات پر نظر کرو کہ کیسی کہی کہنے والے کو نہ دیکھو۔

کسی جاہل کو اس سے شرم نہیں آتی کہ اس سے ایسی چیزیں پوچھی جائیں جن کو وہ نہیں جانتا اور عالم کو اس سے شرم نہیں آتی کہ جب اس سے ایسی بات پوچھی جائے جس کو وہ نہیں جانتا تو کہہ دے اللہ بہتر جانتا ہے۔

آدمی تین قسم کے ہیں۔

(۱) عالم ربانی (۲) نجات کے خیال سے طلب علم کرنے والے (۳) باقی لوگ ہر آواز پر دوڑ پڑنے والے اجڈ گنوار ہیں۔

اگر پردہ اٹھ بھی جائے تو جس قدر یقین ہے اس سے زیادہ نہ بڑھے گا۔

جس نے اپنی قدر و منزلت پہچان لی کبھی برباد نہ ہوگا۔

بخیل کے مال تلف ہونے یا وارث کے مالک ہونے کی بشارت دو۔

جو شخص مال دینے میں بخیل ہو وہ عزت دینے میں سخی ہوتا ہے۔

تقدیر کے آگے تدبیر نہیں چلتی۔

اصل عقلمندی خواہشوں سے جنگ کرنا ہے۔

جس کی زبان شیریں اُس کے بھائی بہت۔

بندہ کو واجب ہے کہ اپنے پروردگار سے امید رکھے اور اپنے گناہوں سے ڈرتا رہے۔

اگر اپنے دشمن پر قابو پاؤ تو اس کے شکریہ میں اسے معاف کر دو۔

انسان کو اپنے گناہ کے سوا کسی چیز سے بھی خوف نہ کرنا چاہیے۔

نیکی کا ارادہ بدی کو دباتا ہے۔

علم حاصل کرو مگر عقل و وقار کے زیور سے بھی آراستہ رہو، استادوں اور شاگردوں کے ساتھ خاکسار رہو۔

سب سے کھٹن کام تین ہیں۔

(۱)اپنے نفس سے حق دلوانا (۲) ہر حال میں خدا کو یاد کرنا (۳) مال سے بھائی کی غمخواری کرنا۔

بے صبری سے تقدیرِ الٰہی تو ٹلتی نہیں اجر و ثواب البتہ ضائع ہوتا ہے۔

سب سے بڑی دولت عقل ہے اور سب سے بڑی مفلسی بے وقوفی ہے۔

انسان کے لیے کتنا برا ہے کہ باطن بیمار اور ظاہر حسین ہو۔

اعتراض کی آگ سے انصاف کا پودا مرجھا جاتا ہے۔

کفایت شعار کبھی غریب نہیں ہوتا۔

آزادی کی حفاظت نہ کرنے والا غلامی میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

تقویٰ سے بڑھ کر کوئی کرامت نہیں۔

علم حاکم اور مال محکوم ہے۔

بخیل دنیا میں زندگی فقیروں جیسی گزارتا ہے لیکن عاقبت میں حساب امیروں جیسا ہوگا۔

لوگ اپنے زمانے سے بہت مشابہ ہیں اس قدر اپنے باپوں سے مشابہ نہیں۔

اپنے قلب کو نصیحت سے توانائی دو، حکمت سے منور کرو اور لوگوں سے بے نیاز ہو کر اسے قوت پہنچاؤ۔

جو شخص اپنے جسم پر غلبہ پاسکتا ہے اس کا جسم ہی اس کی قبر بن جاتا ہے۔

سخاوت یہ ہے کہ بے مانگے دیا جائے، سوال پر جو دیا جائے وہ بخشش ہے۔

انسان کے لیے کتنا برا ہے کہ باطن بیمار اور ظاہر حسین رہے۔

معاف کر دینا دشمن پر فتح حاصل کر لینا ہے۔

صبر کا مرتبہ ایمان سے وہ ہے جو سر کو تمام جسم سے پس جیسے سر جانے سے جسم بے جان و بے کار ہو جاتا ہے، علیٰ ھذا القیاس اگر صبر نہ رہا تو ایمان بھی نہ رہے گا۔

حسد کے ساتھ راحت نہیں، انتقام کے ساتھ سرداری نہیں، بے ادبی کے ساتھ بزرگی نہیں، نافرمانی کے ساتھ فلاح نہیں۔

ہر شخص کی قیمت وہی ہے جو اس میں خوبی پیدا کر دے۔

تیرا مال وہی ہے جو تو نے راہِ حق میں خرچ کیا اور مستحقوں کو دے کر آگے بھیجا۔

خاموشی عالم کا زیور ہے اور جاہل کی جہالت کا پردہ۔

جس کو علم نہیں وہ علم سیکھنے میں شرم نہ کرے۔

جو شخص اپنی زبان کو محفوظ رکھے گا وہ اپنی آبرو اور عزت کو بچائے گا۔

دولت مندوں کے ہزاروں دشمن ہوتے ہیں لیکن علم والے کی عزت بڑھتی ہے اور وہ عالم کہلاتا ہے، دولت فرعون کا ترکہ ہے اور علم پیغمبروں کی میراث ہے۔

جس نے باطل کی تائید کی اس نے حق پر ظلم کیا۔

حکمت ایک درخت ہے جو دل میں اگتا ہے دماغ میں پلتا ہے اور زبان پر پھل دیتا ہے۔

قبول عمل میں سخت اہتمام کیا کرو کیوں کہ عمل بغیر تقویٰ قبول نہیں ہوتا۔

جہل سے زیادہ معالج کو عاجز کرنے والا کوئی مرض نہیں۔

جو شخص تجربہ سے سبق نہیں لیتا بالآخر اس کے سوچنے کی قوت زائل ہو جاتی ہے۔

فقر سب سے بڑی دولت ہے۔

جہاں تمہاری عزت کا عزت کا لحاظ نہ ہوتا ہو وہاں ہرگز نہ جاؤ۔

Recitation

بولیے