حضرت علی کے صوفی اقوال
تیرا مال وہی ہے جو تو نے راہِ حق میں خرچ کیا اور مستحقوں کو دے کر آگے بھیجا۔
انسان کا قریبی وہ ہے جسے محبت نے قریب کر دیا ہو اگر چہ نسب میں بعید ہو، بعید وہ ہے جسے عداوت نے بعید کر دیا ہو اگر چہ نسب میں قریب ہو، دیکھو جسم سے قریب تر ہاتھ ہے اور جب ہاتھ فاسد ہو جاتا ہے تو کاٹ کر علیٰحدہ کر دیا جاتا ہے اور جب کاٹ دیا جاتا ہے تو داغ دیا جاتا ہے۔
شریف سے اس وقت ڈرو جب وہ مظلوم ہو اور کمینہ سے اس وقت ڈرو جب وہ اقتدار میں ہو۔
میں اس شخص کی تعریف کرتا ہوں جو تیرے لیے سخت گیر ہے کہ تجھے بری باتوں سے بچائے، برعکس اس شخص کے جو تیری اصلاح کرنا چاہتا ہے مگر تیری خوشامد بھی کرتا ہے۔
علم کمینہ کو بلند مرتبہ پر پہنچا دیتا ہے اور جہل مرد عالی قدر کو پست مرتبہ کر دیتا ہے۔
گناہوں پر نادم ہونا ان کو مٹاتا ہے لیکن نیکیوں پر غرور یا فخر کرنا انہیں برباد کرتا ہے۔
تم کو جو کچھ دنیا میں سے ملے اس پر بہت خوش نہ ہو اور اگر تم کو کچھ نہ ملے اس سے مایوس ہو کر غم نہ کرو اور اپنی ہمت کو موت کے بعد کے معاملات میں مصروف رکھو۔
جو شخص کسی کے احسان کا شکر گزار نہیں ہوتا، آخر اس کے احسان سے محروم ہو جاتا ہے۔
سچائی میں تو خوف و خطرہ ہے لیکن وہ باعثِ نجات ہے، جھوٹ میں تو بظاہر عافیت نظر آئے گی لیکن وہ موجبِ ہلاکت ہے۔
لوگ بیماری کے خوف سے غذا پہلے چھوڑ دیتے ہیں لیکن عذابِ الٰہی کے خوف سے گناہ نہیں چھوڑتے۔