Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Hassan Basri's Photo'

हसन बसरी

642 - 728 | बसरा, इराक़

हसन बसरी के सूफ़ी उद्धरण

1
Favorite

श्रेणीबद्ध करें

آدم کی آزمائش کھانے میں تھی اور یہ تمہاری آزمائش بھی قیامت کے دن تک ہے، یہ حضرت محمد پاک کی نصیحت ہے کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات کو بھوک اور پیاس کے ذریعے کمزور کرے۔

جو اپنے کو دوسروں پر فضیلت دے وہ متکبر ہے۔

جسے خدا ذلیل کرنا چاہے وہ دولت کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔

جو صرف اسی سے ڈرتے ہیں جو اللہ سے ڈرے۔

مؤمن کا کام آہستگی میں عبادت اور تنہائی میں دعا ہے۔

آخر زمانہ میں ایسے لوگ ہوں گے جو دنیا کمانے کے لیے علم پڑھیں گے، اس میں خدا کی یہ حکمت ہوگی کہ علم معدوم نہ ہو اور وہ بے عمل عالم قیامت کے روز اپنے علم کو اپنے لیے وبال پائیں گے۔

تنگ دست کو حقیر نہ جانو کیوں کہ جب قیامت کے دن تنگ دست خدا کے حضور میں پیش ہوگا۔

غیبت کا کفارہ استغفار کرنا اور جس کی غیبت کی ہو اس سے معافی چاہتا ہے۔

جو شخص خدا کی اطاعت کرتا ہے اسے دوست رکھو، کیوں کہ صالح شخص کو دوست رکھنا حق تعالیٰ کو دوست رکھنا ہے۔

جس نے دنیا کو پہچان لیا اس نے دنیا کو دشمن سمجھا۔

جس کا دل دنیا کی محبت سے لبریز ہوا اس کا دل مردہ ہے۔

تم اگر دیکھو کہ زاہد یا عالم دنیا دار امیروں سے اپنی تعریف سن کر خوش ہوا ہے تو جان لو کہ بڑا ہی ریا کار ہے۔

خوفِ خدا ہر دم دل میں جاگزیں ہونا چاہیے۔

جو شخص دنیا میں رہ کر دنیا کی محبت سے بچتا رہے اس نے اپنے آپ کو بھی فائدہ پہنچاپا اور دوسروں کو بھی۔

آدمی بے چارہ ایسے مکان اور سرائے پر راضی ہوا ہے جس کے حلال کا حساب دینا ہوگا اور جس کے حرام کا عذاب سہنا ہوگا۔

چشم و زبان کی آزادی روح کے لیے قید ہے۔

دنیا کا عذاب یہ ہے کہ تمہارا دل مردہ ہو جائے۔

جو خود کو عالم جانے وہ جاہل ہے۔

میں نے کسی شخص کو نہیں دیکھا کہ اس نے دنیا طلب کی ہو اور اسے عاقبت بھی مل گئی ہو لیکن جس نے عاقبت طلب کی خدا نے اسے دنیا بھی عطا کر دی۔

اگر تو چاہتا ہے کہ دیکھے کہ تیرے بعد تیری دنیا کیسی ہوگی تو تُو دیکھ لے گا کہ دوسرے مرنے والوں کے بعد ان کی دنیا کیا بنی۔

وہ بے وقوف ہے جو دنیا بنانے کے لیے عاقبت کا ٹھکانہ خراب کرے۔

جو کام حکمت سے خالی ہو وہ آفت ہے، جو خاموشی حکمت سے خالی ہے وہ غفلت ہے، جو نظر حکمت سے خالی ہے وہ ذلت ہے۔

غم سے روح میں توانائی آتی ہے۔

نفس سے بڑھ کر دنیا میں منہ زور اور بد لگام کوئی جانور نہیں۔

علم کی عظمت حلم سے ہے اور حلم علم سے۔

Recitation

बोलिए