Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
noImage

Haidar dehalvi

1105 - 1121

Haidar dehalvi کے اشعار

کر عبادت پچھوتاسیں عمراں چار دہاڑے ہو

تھی سوداگر کر لے سودا جاں تک ہٹ نہ تاڑے ہو

منہ دکھلاوے اور چھل بل ہے

پاس رہے ہر نہ ملے اس کو بسوے بیس

سیوک سیوا میں رہئے عنت کہوں نہی جائے

دکھ سکھ سر اوپر سہے کہہ کبیرؔ سمجھاے

Recitation

بولیے