ڈاکٹر سعد ظفر کے صوفیانہ مضامین
’’حسنات العارفین‘‘ کا خصوصی مطالعہ
دارا شکوہ۱۰۲۴ ھ مطابق ۱۶۱۵ ء میں خواجہ معین الدین چشتی کے شہر اجمیر کی مقدس سر زمین پر پیدا ہوا اور ۲۲ ذی الحجہ ۱۰۹۶ ھ مطابق ۱۶۹۵ء میں خواجہ نظام الدین اؤلیا کے شہر دہلی میں محض ۴۴ سال کی عمر میں اس مادی دنیا سے کوچ کر گیا، وہ تیموری دستور کے مطابق شاہجہاں
"نجات الرشید "عہدِ اکبری کی اہم تصنیف
عبدالقادر بن ملوک شاہ بن حامد شاہ، متخلص بہ قادری، ہندوستان میں دسویں صدی ہجری کے معروف و مقبول نثر نگار ہیں، وہ مؤرخ، قلم کار، مترجم، شاعر، موسیقی دان اور بادشاہ اکبر کے پیشِ امام (بروز بدھ) تھے، وہ "بدایونی اور ملا بدایونی" کے نام سے بھی شہرت رکھتے
’’علم الکتاب‘‘ خصوصی معالعہ
خواجہ میر دردؔ اردو زبان و ادب کے ان اہل علم اور با ذوق گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جنہوں نے شعر و سخن میں محض ادبی رجحان سازی نہیں کی بلکہ شعر گوئی میں متصوفانہ نہج کے مضامین نہایت خلاقانہ اسلوب میں بیان کیے ہیں، ان کی شہرت تصوف کے ان رموز و اوقاف کی گرہ
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere