Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

انتظار پر اشعار

اجالا ہو تو ڈھونڈوں دل بھی پروانوں کی لاشوں میں

مری بربادیوں کو انتظار صبح محفل ہے

سیماب اکبرآبادی

خلوت انتظار میں اس کی

در و دیوار کا تماشا ہے

سراج اورنگ آبای

انتظار قاصد گم گشتہ نے مارا نصیرؔ

کس طرح اڑ جائیے کوچے میں اس کے پر لگا

شاہ نصیر

حاضر ہے بزم یار میں سامان عیش سب

اب کس کا انتظار ہے اکبرؔ کہاں ہو تم

شاہ اکبر داناپوری

نہ آیا کیا سبب اب الگ رہا دل انتظار آخر

جہاں ہووے وہاں جا کر مجھنے ہونا نثار آخر

تراب علی دکنی

مے سے چلو بھر دے ساقی جام کا کیا انتظار

ابر آیا جھوم کر موقع نہیں تاخیر کا

عرش گیاوی

کہاں ممکن ہے کس سے انتظار یار ہو مجھ سا

رہے گی پھر بھی یوں ہی مثل نرگس آنکھ وا کس کی

آسی غازیپوری

الٰہی رنگ یہ کب تک رہے گا ہجر جاناں میں

کہ روز بے دلی گزرا تو شام انتظار آئی

حسرت موہانی

جا کہے کوئے یار میں کوئی

مر گیا انتظار میں کوئی

احسن اللہ خاں بیان

دن انتظار کا تو کٹا جس طرح کٹا

لیکن کسو طرح نہ کٹی رات رہ گئی

خواجہ میر اثر

اے قیامت آ بھی تیرا ہو رہا ہے انتظار

ان کے در پر لاش اک رکھی ہے کفنائی ہوئی

ریاض خیرآبادی

جب نگاہیں اٹھ گئیں اللہ ری معراج شوق

دیکھتا کیا ہوں وہ جان انتظار آ ہی گیا

جگر مرادآبادی

تیرے وعدوں کا اعتبار کسے

گو کہ ہو تاب انتظار کسے

خواجہ میر اثر

یہ حال کھلا نہ کچھ بھی عرفاںؔ

ہے تجھ کو یہ انتظار کس کا

عرفان اسلام پوری

کر قتل شوق سے میں تصدق ہوا ہوا

سرکار نہیں ہے فکر جو ہوا انتظار خاص

خواجہ رکن الدین عشقؔ

قیامت آ چکی دیدار حق ہوا سب کو

ہم اب تلک بھی ترا انتظار رکھتے ہیں

احسن اللہ خاں بیان

نہ رہا انتظار بھی اے یاس

ہم امید وصال رکھتے تھے

خواجہ میر اثر

نہ آئیں گے وہ حسرتؔ انتظار شوق میں یو نہیں

گزر جائیں گے ایام بہار آہستہ آہستہ

حسرت موہانی

مٹنے کا غم نہیں ہے بس اتنا ملال ہی

کیوں تیرا انتظار کیا ہائے کیا کیا

بہزاد لکھنوی

دکھائیے آج روئے زیبا اٹھائیے درمیاں سے پردہ

کہاں سے اب انتظار فردا یہی تو سنتے ہیں عمر بھر سے

احقر بہاری

جب وہ آتے نہیں شب وعدہ

موت کا انتظار ہوتا ہے

پرنم الہ آبادی

اکثر پلٹ گئی ہے شب انتطار موت

مرنے نہ درد دل نے دیا تا سحر مجھے

افقر موہانی

ایک دن ایسا بھی ہوگا انتظار یار میں

نیند آ جائے گی دروازہ کھلا رہ جائے گا

پرنم الہ آبادی

جل ہی گیا فراق تو آتش سے ہجر کی

آنکھوں میں مری رہ نہ سکا یارو انتظار

خواجہ رکن الدین عشقؔ

دیکھو کوئے یار میں مت حضرت دل راہ اشک

انتظار قافلہ منزل پہ کیوں کھینچے ہیں آپ

شاہ نصیر

کثرت امید بھی عیش آفریں ہونے لگی

انتظار یار بھی راحت فزا ہونے لگا

حسرت موہانی

آ کر وہ میری لاش پہ یہ کہہ کے رو دیے

تم سے ہوا نہ آج مرا انتظار بھی

پرنم الہ آبادی

وصل کا انتظار ہی اچھا

یہ تو مضطرؔ خدا کرے کہ نہ ہو

مضطر خیرآبادی

جب نگاہیں اٹھ گئیں اللہ ری معراج شوق

دیکھتا کیا ہوں وہ جان انتظار آ ہی گیا

جگر مرادآبادی

آ جائیو یار گھر سے جلدی

مت کشتۂ انتظار کیجو

میر محمد بیدار

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

متعلقہ موضوعات

بولیے