Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
noImage

वहीदुद्दीन ख़ाँ

1925 - 2021 | दिल्ली, भारत

वहीदुद्दीन ख़ाँ के सूफ़ी उद्धरण

श्रेणीबद्ध करें

اگر آپ اپنی آرزؤوں کا محل چھت کی طرف سے کھڑا کرنا چاہیں تو آخر کار آپ کے حصہ میں ملبہ کے سوا اور کچھ نہ آئے گا۔

الفاظ کا تاج محل خواہ کتنا ہی حسین ہو، حقائق کا طوفان اس کو اِس طرح بہا لے جاتا ہے جس طرح کوئی آندھی تنکوں کے ڈھیر کو۔

راستہ صرف اس آدمی کے لیے بند ہے جس کو راستہ چلنا نہ آتا ہو، ہوا کے لطیف جھونکے ہر روز یہ پیغام دے رہے ہیں۔

اپنے آپ کو بدل دو تمہاری قسمت خود بخود بدل جائے گی۔

کامیابی کا موقع صرف ایک بار کسی شخص کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے۔

کرنے والے ہمیشہ اپنا کام آج کے دن کرتے ہیں اور نہ کرنے والے ہمیشہ اپنا کام کل کے دن۔

کوئی بھی چیز سورج کو جلد طلوع نہیں کرسکتی مگر ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کی صبح کو جلد پیدا کر لے۔

اکثر لوگ زندگی کی کتاب پڑھنا شروع کر دیتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے زندگی کی زبان سیکھی ہو۔

مشکل ایسا عذر ہے جس کو تاریخ کبھی قبول نہیں کرتی۔

لوگ جو کچھ کہتے ہیں کرتے نہیں کیوں کہ وہ اس کی قیمت دینا نہیں چاہتے۔

منزل پر پہنچنا صرف اس شخص کے لیے مقدر ہے جو راستہ کے کانٹوں سے بچ کر آگے نکل جائے۔

جس آدمی کے پاس کتاب ہے وہ اکیلا نہیں ہے۔

آدمی پھول بن کر مہکے اور آفتاب بن کر چمکے دنیا خاموش زبان میں ہر روز یہ پیغام دے رہی ہے۔

تمام کامیابیوں کا سب سے بڑا راز صبر ہے اور تمام ناکامیوں کا سب سے بڑا راز بے صبری۔

جلدی نہ کرو کیوں کہ تم جتنی جلدی کرو گے اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی۔

اپنے حق سے زیادہ چاہنا اپنے آپ کو اپنے واقعی حق سے بھی محروم کر لینا ہے۔

نادان نے کہا کہ میں نے اپنے ماضی اور حال کو برباد کر دیا، دانش مند بولا مگر مستقبل تو برباد نہیں ہوا۔

عقل مند آدمی اس وقت بولتا ہے جب کہ دوسرے بولنے والے چپ ہو چکے ہوں۔

سب سے زیادہ بولنا وہ شخص جانتا ہے جو سب سے زیادہ چپ رہنا جانتا ہو۔

اس دنیا میں کوئی غروب آخری نہیں، ہر غروب کے لیے ایک نیا طلوع مقدر ہے، بشرطیکہ آدمی اپنی شام کو دوبارہ صبح میں تبدیل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

دانش مند وہ ہے جس کا حریف اس کے منصوبہ سے اس وقت باخبر ہو جب کہ وہ اپنے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچا چکا ہو۔

عقل مند آدمی ہر چیز کی امید اپنے آپ سے کرتا ہے اور بے وقوف آدمی ہر چیز کی امید دوسروں سے۔

عقل مند انسان وہ ہے جو اپنے حق سے کم لینے پر راضی ہو جائے اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینے کے لیے تیار رہے۔

میں نے وقت کو برباد کیا تھا اب وقت خود مجھ کو برباد کر رہا ہے۔

حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔

اگر آپ نے اپنے آغاز کو پالیا تو آپ اپنے اختتام کو بھی پاسکتے ہیں کیوں کہ صحیح آغاز ہی کا دوسرا نام صحیح اختتام ہے۔

آج کا ڈوبا ہوا سورج اگلے دن ضرور طلوع ہوتا ہے مگر اکثر لوگ آنے والے دن تک اس کا انتظار نہیں کرتے۔

ترقی کا زینہ آدمی کی اپنی محنت ہے مگر بہت سے لوگ دوسروں کی بربادی کو اپنی ترقی کا سب سے قریبی زینہ سمجھ لیتے ہیں۔

کوئی شخص کسی دوسرے کے لیے نہیں لڑتا ہر آدمی کو اپنی زندگی کی لڑائی خود لڑنی پڑتی ہے۔

آدمی اگر دوسروں کی غلطیوں سے سبق لینا سیکھ لے تو کبھی وہ اپنے معاملات میں غلطی نہ کرے۔

بلند مقام ہمیشہ اپنے آپ کو بلند کرنے سے ملتا ہے نہ کہ نعرے اور جھنڈے کو بلند کرنے سے۔

نا دانی کے اقدام سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے۔

دوسروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرانا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی خود اپنے امکانات سے با خبر نہ ہوسکا۔

جو شخص اپنے آپ پر فتح حاصل کرلے اس کے لیے دوسروں پر فتح حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں۔

عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطیوں کو بھول جائے اور اپنی غلطیوں کو ہمیشہ یاد رکھے۔

اگر تم پہاڑ کو سرکانا چاہتے ہو تو ذروں کو سرکانے کا ہنر سیکھو۔

ہر شام کے بعد دوبارہ نئی صبح آتی ہے مگر صبح کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جو صبح کے آنے تک اس کا انتظار کرے۔

جو شخص کاٹھ کی ہنڈیا میں کھانا پکائے اس کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ ہمیشہ بھوکا پڑا رہے۔

شکست تاخیر ہے مگر شکست ناکامی نہیں۔

جب آدمی کا ماضی اور حال لٹ چکا ہو اس وقت بھی اس کا مستقبل محفوظ رہتا ہے۔

ہر آدمی اپنے گزشتہ کل کو کھو چکا ہے، کامیاب وہ ہے جو اپنے آج کو نہ کھوئے۔

عقل مند آدمی کرنے سے پہلے سوچتا ہے اور بے وقوف آدمی کرنے کے بعد۔

اپنی ہار کو ماننا اس عزم کا اظہار ہے کہ آدمی پھر سے محنت کر کے اپنی کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنا چاہتا ہے۔

محرومی آپ کے لیے ترقی کا زینہ ہے، اگر وہ آپ کی دبی ہوئی قوتوں کو جگانے والی ثابت ہو۔

پیاسے دشمن کو پانی پلانا اس کے سر پر انگارہ رکھنے کے ہم معنی ہے۔

نقصان کیا ہے وقت پر چوک جانا نفع کیا ہے وقت کو استعمال کرنا۔

طاقتور دشمن سے انصاف کی اپیل کرنا ایسا ہی ہے جیسے پتھر سے یہ کہنا کہ وہ پانی کا چشمہ جاری کردے۔

اگر آپ بولنا نہیں جانتے تو چپ رہنا جانیے کیوں کہ چپ رہنا بھی اتنا ہی بڑا کام ہے جتنا کہ بولنا۔

برے سلوک کا بہترین جواب اچھا سلوک ہے، جہالت کا بہترین حل اس کو نظر انداز کر دینا ہے۔

بدبختی ہمیشہ اس دروازہ سے داخل ہو جاتی ہے جو ہم خود اس کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔

Recitation

बोलिए