زبانی روایتیں کی صوفی کہاوتیں
جیسی تیری تانی، ویسی میری بھرنی
جیسی تیری تانی، ویسی میری بھرنی تو نے جیسی چیز دی، میں نے ویسا ہی کام کر دیا۔
تنور بازی اور اللہ راضی
تنور بازی اور اللہ راضی تندور والے سے روٹی مانگ کر کھانا اور موج کرنا فقیروں کا قول (مسلمان فقیر اپنے اصول کے مطابق تندور والے کے پاس جا کر روٹی مانگتے ہیں اور یہی کہاوت کی اصل ہے)
رکھتے نہیں صرف بھروسہ مدار کا
طاقت کمرمیں چاہئے اولاد کے لئے رکھتے نہیں صرف بھروسہ مدار کا اپنے بوتے سے ہی سب کام کرنا چاہئے، کسی کا بھروسہ نہیں۔ (مدار مسلمانوں کے ایک پہنچے ہوئے صوفی تھے۔ مکن_پور میں ان کی آرام_گاہ ہے)
جیسا من حرام میں، تیسا ہری میں ہوئے
جیسا من حرام میں، تیسا ہری میں ہوئے چلا جائے بیکنٹھ کو، روک سکے نا کوئے
جَس کیلے کے پات میں، پات پات میں پات
جَس کیلے کے پات میں، پات پات میں پات تَس گیانی کی بات میں، بات بات میں بات
اندھرے کو سوجھے بہرائچ
اندھرے کو سوجھے بہرائچ اندھے کو بہرائچ کی ہی سوجھتی ہے۔ اندھی تقلید ہے کہ جیٹھ کے مہینے میں بہرائچ میں واقع مسعود_غازی کی درگاہ پر عقیدت سے جانے والے اندھے بھی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اپنے ہی مفاد پر اگر کسی کا دھیان مرکوز ہوتو اس کے تئیں طنزاً اس کہاوت
جات_بھانت پوچھے نہیں کوئی، ہری کو بھجے سو، ہری کا ہوئی
جات_بھانت پوچھے نہیں کوئی، ہری کو بھجے سو، ہری کا ہوئی
گٹھری باندھی دھول کی، رہی پوَن سے پھول
گٹھری باندھی دھول کی، رہی پوَن سے پھول گانٹھ جتن کی کھل گئی، انت دھول کی دھول انسانی جسم کے بارے میں۔
علم در سینہ، نہ در سفینہ
علم در سینہ، نہ در سفینہ علم کا جائے مقام دل ہے نہ کہ کتابیں یا گرنتھ۔ ۔ حاصل کردہ علم کا اتنا ہی حصہ اپنا کہا جا سکتا ہے جو اپنے کو یاد ہے۔ کتاب میں موجود علم اپنے کے لئے کسی کام کا نہیں
جن ڈھونڈا تن پائیاں، گہرے پانی پَیٹھ
جن ڈھونڈا تن پائیاں، گہرے پانی پَیٹھ بک بیچارہ کیا کرے، رہے کنارے بیٹھ فائدہ تبھی ہوتا ہے، جب کچھ محنت کی جائے اور جوکھم بھی اٹھایا جائے۔
اب رحیم چپ کری رہو دیکھی دینن کو پھیر
وقت کی گردش یا برے دن کو دیکھ کر، کچھ بھی نہیں کرنا چاہئے، چپ بیٹھنا چاہئے بصورت_دیگرکافی نقصان ہوتا ہے۔
کھڑے پیرکا روزہ رکھا ہے کیا؟
کھڑے پیرکا روزہ رکھا ہے کیا؟ جو اپنی جگہ پرنہ بیٹھے ہو۔ اس کے لئے بولا جاتا ہے
تب لگ جھوٹ نہ بولئے، جب لگ پار بسائے
تب لگ جھوٹ نہ بولئے، جب لگ پار بسائے جب تک بس چلے جھوٹ نہیں بولنا چاہئے۔ مجبوری دیگر بات ہے۔
خضرملے جی خضر ملے
خضرملے جی خضر ملے مطلوبہ شئے مل جانے پر (اسلام اور اس کے اہل کتاب مذہب کے عقیدے میں خضرایک پیغمبر ہیں، جنہیں زندہ تصور کیا جاتا ہے اور ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ آب حیات ان حاصل ہوا تھا جس کی بدولت وہ آج بھی زندہ ہیں)
گروجی! چیلے بہت ہو گئے، بچہ، بھوکوں مریں_گے تو آپ چلے جائیں_گے
گروجی! چیلے بہت ہو گئے، بچہ، بھوکوں مریں_گے تو آپ چلے جائیں_گے
اینکھ کا رس گانٹھ میں نہیں ہوتا
اینکھ کا رس گانٹھ میں نہیں ہوتا گنےجیسی چیزمیں بھی گانٹھ کے اندر رس نہیں ہوتا۔ یعنی گانٹھ (من کی گانٹھ) بہت بری چیز ہے۔
کون سا درخت ہے، جسے ہوا نہیں لگی
کون سا درخت ہے، جسے ہوا نہیں لگی تھوڑی بہت تکلیف سب کو جھیلنی پڑتی ہے۔
جوگی جوگی لڑے، کھپروں کا خَور
جوگی جوگی لڑے، کھپروں کا خَور کیونکہ ان کے پاس لڑنے کے لئے رکھا ہی کیا ہے؟ (بڑوں کی لڑائی میں چھوٹے پستے ہیں)
کمل نال کو توڑئے، تدپی نہ ٹوٹے سوت
کمل نال کو توڑئے، تدپی نہ ٹوٹے سوت کنول کے نال کو توڑنے پر بھی اس کا سوت اس سے الگ نہیں ہوتا۔ مطلب یہ ہوا کہ بھلے لوگوں کے دل میں رشتہ ٹوٹنے پر بھی محبت باقی رہتی ہے۔
عشق یا کرے امیر، یا کرے فقیر
عشق یا کرے امیر، یا کرے فقیر امیر یا فقیرصرف دو ہی لوگ محبت کرسکتے ہیں۔ امیر اس لئے کہ اس کے پاس خرچ کرنے کے لئے مال ہوتا ہے، اور فقیر اس لئے کہ اسے کسی بات کی فکر یا خوف نہیں ہوتا۔ متوسط طبقے کے لوگ محبت کرنے کے لئے مناسب نہیں سمجھے جاتے ہیں۔
جو بندہ نوای کرے، جان اس پر فدا ہے
جو بندہ_نوای کرے، جان اس پر فدا ہے بہ_فیض اگر یوسف_ثانی ہے، تو کیا ہے جومیرے ساتھ اچھا برتاؤ کرے، اس پر جان نچھاورکرسکتا ہوں لیکن جس کے دل میں میرے تئیں احترام نہیں ، ایسا دوسرا یوسف بھی اگر ملے، تو اس سے مجھے کوئی سروکار نہیں
جسے پیا چاہے، وہی سہاگن، کیا سانوری کیا گوری
جسے پیا چاہے، وہی سہاگن، کیا سانوری کیا گوری جس پرخدا کی عنایت ہوتی ہے وہی اعلیٰ مقام پر پہنچتا ہے، چاہے اس میں قابلیت نہ ہو۔
کمری ہی نہیں چھوڑتی
کمری ہی نہیں چھوڑتی ایک صوفی نے ندی میں تیرتے ہوئے ایک بھالو کو کمبل سمجھ کر پکڑ لیا۔ کنارے پر کھڑے اس صوفی کے مریدوں نے صورتحال کا اندازہ کر لیا۔ وہ زور سے چلائے کمری چھوڑ دو اور چلے آؤ۔ اس پر صوفی نے جواب دیا، میں نے کمری تو چھوڑ دی لیکن وہ مجھے
غازی_میاں، دم_مدار، کھچڑ پکا ہم تیار
غازی_میاں، دم_مدار، کھچڑ پکا ہم تیار غازی_میاں اور شاہ_مدار کی قسم، میں کھچڑی کھانے کو تیار ہوں۔
ٹکٹک' سمجھے' آ آ' سمجھے، کہے_سنے سے رہے کھڑا
ٹکٹک' سمجھے' آ آ' سمجھے، کہے_سنے سے رہے کھڑا کہیں کبیرسنو بھائی سادھو، اَس مانس کے بیل بھلا کم_عقل انسان کے لئے
جوگی کو بیل بَلا
جوگی کو بیل بَلا جوگی کو بیل دیا جائے، تووہ اس کے لئے مصیبت بن جائے گا۔ وہ اسے کہاں رکھے گا، کہاں باندھے گا؟
جوگی جُگت جانی نہیں، کپڑے رنگے تو کیا ہوا
جوگی جُگت جانی نہیں، کپڑے رنگے تو کیا ہوا کسی کام کو اچھی طرح سیکھے بغیرصرف بھیس بدلنے سے کام نہیں چلتا۔
(ابھی دلی دور ہے (ہنوز دہلی دور است
(ابھی دلی دور ہے (ہنوز دہلی دور است ابھی کام مکمل ہونے میں دیرہے. ابھی منزل حاصل کرنے کے لئے بہت زیادہ چلنا ہے. جب کوئی شخص اپنی حیثیت سے بڑی چیزکو حاصل کر نے کی کوشش کرتا ہے، تو اس کہاوت کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کہاوت کا تعلق ایک واقعہ سے
جس کے دھی نہیں، اس کی دہلی دھی
جس کے دھی نہیں، اس کی دہلی دھی جس کے پاس لڑکی نہیں ہوتی، وہ دہلیزکوہی لڑکی سمجھتا ہے، یعنی اسے اگر کچھ دینا ہوتا ہے، تو دروازے پر جو آتا ہے، اسے ہی دیتا ہے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere