خواجۂ کمال کے صوفیانہ مضامین
ذکر حضرت مخدوم شیخ سعدالدین خیرآبادی
آپ کے جد اعلیٰ قاضی قدوہ روم سے ہندوستان آئے تھے، بادشاہ وقت نے اودھ کا ایک علاقہ جاگیری میں دے دیا تھا اور اسی شہر میں ان کا مدفن بھی ہے، ان کے ہمراہ کثیر جماعت آئی تھی جس میں علما بھی تھے بلکہ کئی دایہ اور ذلام بھی دانشمند تھے۔ مشہور ہے کہ ایک
ذکر حضرت بندگی مخدوم شیخ سارنگ
بندگی مخدوم سارنگ سلطان فیروز شاہ کے امرا میں تھے، ملک سارنگ کے لقب سے یاد کیے جاتے، جب دنیاداری میں تھے تو بارہ سو سوار آپ کی چاکری میں تھے، بیعت حضرت مخدوم قوام الدین سے تھی، ترک دنیا کے بعد حضرت مخدوم جہانباں سے خلافت حاصل کی۔ صدرالدین سید راجو کو
ذکر حضرت بندگی مخدوم شیخ محمد مینا لکھنوی
جن کا قول یہ ہے کہ خراب دل سے اگر ایمان بھی صادر ہو کفر ہے اور اگر آباد دل سے کفر صادر ہو تمام تر ایمان ہے۔ منقول ہے کہ جب پیر دستگیر (شاہ مینا) پیدا ہوئے تو بندگی شیخ قوام الدین نے ہندی زبان میں فرمایا ’’اوامور مینا‘‘ اسی سبب سے ان کا عرف مینا ہوگیا،
ذکر حضرت بندگی شیخ قوام الدین لکھنوی
آپ کی جائے پیدائش اور ابتدائی تربیت گاہ شہر کڑا مانک پور تھا، وطنِ مالوف سے منتقل ہو کر لکھنؤ میں قیام پذیر ہو گیے تھے، بندگی مخدوم شیخ مینا قدس سرہٗ کے والد مخدوم شیخ قطب الدین، مخدوم شیخ قوام الدین کے چچازاد بھائی اور مرید تھے، وہ اپنے وطن کڑا مانک
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere