امام حسین کے صوفی اقوال
اعلیٰ درجے کا معاف کرنے والا وہ ہے جو انتقام پر قدرت رکھتے ہوئے عفوو در گزر سے کام لے۔
جس کام کی انجام دہی تمہارے لیے دشوار ہو، تم اس پر قادر نہ ہو اس کی ذمہ داری اپنے سر نہ لو۔
دنیا کا رنگ بدل گیا وہ نیکی سے محروم ہوگئی، کوئی نہیں جو ظالم کو ظلم سے روکے وقت آگیا ہے کہ مؤمن سچائی کی راہ میں بیچین ہو کر نکل پڑے اپنا سب کچھ اللہ کے لیے قربان کردے۔
وہ سب رخصت ہوگئے جن سے مجھے محبت تھی اور اب میں ان لوگوں میں ہوں جو مجھے پسند نہیں۔
معاملے کی جو صورت ہوگئی ہے تم دیکھ رہے ہو دنیا نے اپنا رنگ بدل دیا، منہ پھیر لیا نیکی سے خالی ہوگئی، ذرا تلچھٹ باقی ہے، حقیر سی زندگی رہ گئی ہے، ہولناکی نے احاطہ کر لیا ہے، افسوس تم دیکھتے نہیں کہ حق پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے باطل پر علانیہ عمل کیا جارہا ہے، کوئی نہیں جو اس کا ہاتھ پکڑے وقت آگیا ہے کہ مؤمن حق کی راہ میں لقائے الٰہی کی خواہش کرے، میں شہادت ہی کی موت چاہتا ہوں، ظالموں کے ساتھ زندہ رہنا بجائے خود جرم ہے۔