بایزید بسطامی کے صوفی اقوال
جب خدا کسی سے محبت کرتا ہے تو اسے تین صفات سے نوازتا ہے۔
سمندر جیسا سخاوت، سورج جیسا ہمدردی اور زمین جیسی انکساری۔
سچا عاشق ہو تو کوئی درد بڑا نہیں، کوئی قربانی زیادہ نہیں، کیوں کہ اس کے اندر گہری بصیرت اور جلتی ہوئی ایمان ہوتی ہے۔
جب میں نے دنیا کو اپنا دشمن جانا اور رب کی طرف متوجہ ہوا، تو اس کی محبت نے مجھے اس قدر گھیر لیا کہ میں خود اپنا دشمن بن گیا۔
اگر آٹھوں جنتیں ہمارے گوشے میں جلوہ گر ہوں اور دنیا کی سلطنت ہمارے ہاتھ میں ہو، تب بھی ہم اس ایک آہ کو ترک نہ کریں گے جو سحر کے وقت دل کی گہرائی سے یادِ الٰہی میں شوق کے مارے نکلتی ہے۔
اگر آپ تیس برس میں طاقتور اور چالیس برس میں عقلمند نہیں بنے تو آپ کبھی طاقتور اور چالیس برس میں عقلمند نہیں بنے تو آپ کبھی طاقتور اور عقلمند بننے کی امید نہ رکھیں۔
میں اپنے اعضا کو عبادت میں مشغول رکھتا تھا، جب ایک عضو کو سست پاتا تو دوسرے سے کام لیتا تھا، یہاں تک کہ میں بایزید ہوگیا۔
میں کہتا ہوں کہ خدا میری ذات کا آئینہ ہے، کیوں کہ میری زبان سے وہ بات کرتا ہے اور میں خود نہیں رہا۔
انسان کے مختلف حال ہوتے ہیں لیکن عارف کے کوئی حال نہیں، اس کے انسانی صفات مٹ چکی ہیں اور اس کی ذات دوسری ذات میں گھل گئی ہے، اس کی صفات ختم ہو گئی ہیں کیوں کہ ان کی جگہ دوسری صفات نے لے لی ہیں۔
خدا جسے دوست رکھتا ہے، انہیں تین خصلتیں عطا فرماتا ہے، اول سخاوت مثل دریا کے، دوم شفقت اور سوم تواضع مثل زمین کے۔
اگر خدا کا قرب چاہتے ہو تو اندھے، بہرے اور گونگے بن جاؤ یعنی حرام پر نظر نہ کرو، غیبت اور بری بات نہ سنو، برا کلمہ اور غیبت منہ سے نہ نکالو۔
خدا کے ولی اس کے عروس ہیں اور عروسوں کو سوائے اہلِ خاندان کے کوئی نہیں دیکھتا، وہ قربِ الٰہی کے پردوں میں مستور رہتے ہیں، نہ دنیا میں کوئی انہیں پہچانتا ہے، نہ آخرت میں۔
آگ بے شک ان لوگوں کے لیے عذاب ہے جو خدا کو نہیں پہچانتے لیکن خدا شناس لوگ آگ کے واسطے عذاب ہوں گے۔
کسی نے پوچھا یہ معرفت تم نے کیسے پائی؟ کہا کہ بھوک سے بے تاب پیٹ اور ننگے بدن سے
ساری کوششیں اور ریاضتیں کرکے بھی نظر اس کے فضل پر رکھنی چاہیے نہ کہ اعمال پر، کیوں کہ اعمال کے اخلاص اور قبولیت کا کچھ پتہ نہیں۔
وہ شخص خدا سے دور ہے جو فخر و غرور سے اپنا کام اشارہ و کنایہ سے چلاتا ہے اور وہ شخص خدا کے نزدیک ہے جو اس کی مخلوق کے کام آتا اور اس کی تکالیف خود برداشت کرتا ہے۔
آسائش کا دروازہ اپنے اوپر بند کرنا اور محنت کے زانووں کے نیچے سر رکھنا تصوف ہے۔
میں نے دنیا سے تین بار بُعد اختیار کیا اور تنہا تنہا اس ذات کی طرف روانہ ہوا، میں حضورِ حق کے سامنے کھڑا ہو کر رویا کہ “اے رب! میری خواہش صرف تُو ہے، اگر تُو میرے پاس ہے تو میرے پاس سب کچھ ہے” جب خدا نے میری صداقت پہچانی تو پہلی عنایت یہ ہوئی کہ اس نے میرے سامنے نفس کے فضلے کو ہٹا دیا۔
کسی نے پوچھا کہ انسان کب جانتا ہے کہ اس نے اصل معرفت پا لی؟ کہا کہ جب وہ خدا کے علم کے تحت فنا ہو جائے اور خودی اور مخلوق سے بے نیاز ہو کر خدا کے حضور دائمی ہو جائے
کسی نے پوچھا کہ انکساری کب حاصل ہوتی ہے؟ جواب ملا کہ جب وہ اپنے نفس کو کسی مقام یا حال کا مالک نہ سمجھے اور انسانوں میں کوئی بھی اپنے سے بدتر نہ جانے
عارف نہ سونے میں خدا کے سوا کچھ دیکھتا ہے اور نہ جاگنے میں، وہ خدا کے سوا کسی سے مطابقت نہیں کرتا اور نہ کسی اور کی طرف دیکھتا ہے۔
محبت کرنے والوں کی نظر میں جنت کی کوئی قدر نہیں اور وہ اپنی محبت کی پردہ داری میں خدا سے پوشیدہ رہتے ہیں۔