Sufinama
Aasi Ghazipuri's Photo'

آسی غازیپوری

1834 - 1917 | غازی پور, بھارت

چودھویں صدی ہجری کے ممتاز صوفی شاعر اور خانقاہ رشیدیہ جون پور کے سجادہ نشیں

چودھویں صدی ہجری کے ممتاز صوفی شاعر اور خانقاہ رشیدیہ جون پور کے سجادہ نشیں

آسی غازیپوری کے دوہے

اوس اوس سب کوئی کہے آنسو کہے نہ کوے

موہی ورہن کے سوگ مے رین رہی ہے روے

کاجر دوں تو کرکرائے سرمہ دیا نہ جائے

جن نینن ماں پیہ بسے دوجا کون سمائے

ہم تم سوامی ایک ہے کہن سنن کو دوئے

من کو من سے تولیے دو من کبھی نہ ہوئے

مے چاہوں کہ اڑ چلوں پر بن اڑا نہ جاے

کاہ کہوں کرتار کو جو پر نا دیا لگائے

من ما راکھوں من جرے کہوں تو مکھ جری جاے

گونگے کا سپنا بھیو سمجھ سمجھ پچھتاے

کر کمپے لکھنی ڈگے انگ انگ تھہراے

سدھی آوت چھاتی پھٹے پانتی لکھی نہ جائے

بھج پھرکت تورے ملن کو سرون سنن کو بین

من مالا توہی نام کا جپت رہت دن رین

Recitation

بولیے