Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

تھا جو از بسکہ میں عصیاں میں خبر آلودہ

نظیر اکبرآبادی

تھا جو از بسکہ میں عصیاں میں خبر آلودہ

نظیر اکبرآبادی

MORE BYنظیر اکبرآبادی

    دلچسپ معلومات

    خمسہ بر غزل حافظؔ شیرازی۔

    تھا جو از بسکہ میں عصیاں میں خبر آلودہ

    طاعت مکر سے رہتا تھا حجاب آلودہ

    اہل تقویٰ کا سمجھ دانۂ و آب آلودہ

    دوش رفتم بدرِ میکدہ خواب آلودہ

    خرقہ تر دامن و سجادہ شراب آلودہ

    لے گیا شوق جو واں مجھ کو اٹھا دوش بدوش

    جاتے ہی درپہ گرا پیر مغاں کے مدہوش

    دیکھ کر مجھ کو، پڑا خواب میں غفلت کے خموش

    آمد افسوس کناں مغبچۂ بادہ فروش

    گفت بیدار شوائے رہرو خواب آلودہ

    جب میں جاگا تو کہا اس سے بہ شیریں سخنی

    یعنی ہے جان تری عشق مجازی کی بھٹی

    دور کر دل سے یہ غفلت جو ہے خوباں کی چنی

    در ہوائے لب شیریں دہناں چند گنی

    جو ہر روح بیا قوتِ نداب آلودہ

    اے ہوس ناک یہ ہے میکدۂ قدس مقام

    بیٹھے مستانِ ازل کرتے ہیں یاں شرب مدام

    تو بھی وہ مے جو پیا چاہے تو ایک نیک انجام

    سست شوئے کن وانگہ بخرابات خرام

    تا نہ گرد و زنویں دیر خراب آلودہ

    گر تجھے عشق حقیقی نے ہے کچھ دی توفیق

    تو تو سیکھ آن کی یاں اہل طریقت کا طریقہ

    ایک ادنیٰ سایہ اس عشق کا نکتہ ہے دقیق

    آشنا یانِ رہِ عشق دریں بحرِ عمیق

    غرق گشتند و نہ گشتند بآب آلودہ

    یہ وہ دریا نہیں تو جس میں کرے آکے شنا

    یہ تو ہے معدنِ انوار و یقین صدق و صفا

    گر تو چاہے کہ یہاں آوے تو اے غرق ریا

    پاک صافی شوا و از چاہِ طبیعت بدر آ

    کہ صفائی نہ دہد آبِ ترآب آلودہ

    ہم تو پھرتے ہیں نظیرؔ عشق میں اب خانہ بدوش

    کل عجب طرح کا اک نکتہ ہوا گوہر گوش

    کچھ جو حافظ نے کہا یار سے ہو دوش بدوش

    گفت حافظؔ برو ایں نکتہ بیاران مفروش

    آہ! ازیں لطف با انواعِ عتاب آلودہ

    مأخذ :
    • کتاب : کلیات نظیر اکبرآبادی (Pg. 197)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے