حشر تک نعتیہ تحریر مقالے ہوں گے
حشر تک نعتیہ تحریر مقالے ہوں گے
مگر ہر دور کے انداز نرالے ہوں گے
میری سرکار کے جو چاہنے والے ہوں گے
حشر کے روز وہ رضواں کے حوالے ہوں گے
راہِ طیبہ میں سناتا ہوں انہیں نعتِ حبیب
مجھ سے مسرور نہ کیوں قافلے والے ہوں گے
تہنیت زائر طیبہ تجھے تو نے دل کے
خوب جی کھول کے ارمان نکالے ہوں گے
ان کی آمد سے رہے گا نہ کوئی دل غمگین
اب کسی لب پہ حسرت بھرے نالے ہوں گے
میری بخشش کے قیامت میں بنیں گے تمغے
سفرِ طیبہ میں پاوؔں کے جو چھالے ہوں گے
جلوہ روئے محمد کا ہوں واصف طارقؔ
میری حربت میں اجالے ہی اجالے ہوں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.