یا رب یہ زندگی کا سفر یوں تمام ہو
یا رب یہ زندگی کا سفر یوں تمام ہو
کعبہ میں صبح ہو تو مدینہ میں شام ہو
جن عاصیوں کو ڈھونڈ رہا ہے ترا کرم
ان عاصیوں میں کاش ہمارا بھی نام ہو
دل کو بنائے بیٹھا ہوں ایوب کا مکاں
سرکار اس میں بھی تو کسی دن قیام ہو
مل جائیں گی سکون کی راہیں جہان کو
نافذ اگر جہاں میں نبی کا نظام ہو
جو لگ گیا ہو آپ کے نعلینِ پاک سے
وہ ذرہِ حقیر بھی ماہِ تمام ہو
مجبورِ غم پڑے ہیں مدینہ سے دور ہم
مقبولِ بارگاہ ہمارا سلام ہو
دونوں جہان میں ہے وہی سرخرو نسیمؔ
جس کی نظر میں فرقِ حلال و حرام ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.