Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

مطلعِ نور کی تضمین میں کالا بادل

نجم الدین ثاقب

مطلعِ نور کی تضمین میں کالا بادل

نجم الدین ثاقب

MORE BYنجم الدین ثاقب

    مطلعِ نور کی تضمین میں کالا بادل

    چشمۂ خضر کہاں اور کہاں گنگا جل

    باغِ جنت کے مقابل میں فضائے گوکل

    سچ تو یہ ہے شعرا کے ہے دماغوں میں خلل

    نعت پاکِ نبوی اور مدیحِ سرکشن

    اے کجا کوثر و تسنیم کجا گنگا جل

    نعت اور کفر کی تضمین الٰہی توبہ

    فرش کانٹوں کا بچھاتے ہیں بجائے مخمل

    جائے حورانِ بہشتی ہیں زنانِ متھرا

    نخلِ طوبی کی جگہ سرو قدانِ گوکل

    حور و غلماں کی جگہ ذکرِ بتانِ کاشی

    جام کوثر کے عوض کانچ کی چھوٹی بوتل

    گوپیوں کی کہیں چھل بل ہے کہیں کشن کی دھن

    کہیں اندر کا اکھاڑا کہیں بوڑھوا منگل

    جے سری جی کی کہیں اور کسی جا ڈنڈوت

    ہے نمشکار کہیں اور کہیں کھیم کسل

    کفر و اسلام کی سدھ بدھ ہے نہ کچھ پاسِ ادب

    نشۂ بادۂ مضموں میں ہوئے ایسے اٹل

    آخر اس جوشِ جنوں کا بھی ٹھکانا کوئی

    بھنگ نوشوں کے تخیل ہیں کہ رندوں کے زٹل

    وادیٔ نعتِ رسولِ مدنی ہے در پیش

    چھوڑ اب چھوڑ یہ ویرانۂ پُرخار دجل

    کیا رہِ نعت میں تاریکیٔ شب سے خطرہ

    دیدۂ خضر سے ہر گام ہے روشن مشعل

    تشنگی کا جو خیال آئے دلِ رہرو میں

    لائیں الیاس بھی مہمان کی خاطر چھاگل

    خوانِ نعمت کا چنیں دستِ مبارک سے خلیل

    منہ سے بے ساختہ الجوع اگر جائے نکل

    پیار سے اپنا عصیٰ حضرتِ موسیٰ بخشیں

    فرشِ مخمل پہ اگر پاؤں کہیں جائے پھسل

    خستہ ہو کر جو مسافر سرِ منزل بیٹھے

    قم عیسیٰ سے بڑھے جسم میں کس پاؤں میں بل

    پاؤں میں آ کے سرِ راہ جو دامن پھٹ جائے

    ابھی پیوند کو دیں حضرت مریم آنچل

    دیں سواری کے لیے حضرتِ صالح ناقہ

    دو قدم چلنے دیں مہماں کو نہ اپنے پیدل

    سفرِ بحر جو در پیش ہو اس منزل میں

    کشتیٔ نوح نہ ہو آنکھ سے دم بھر اوجھل

    دھن جو بندھ جائے کبھی زمزمہ بلبل کی

    لحن داؤد سے پیدا ہو یہ نعتیہ غزل

    مرحبا شانِ نبی روزِ مکافاتِ عمل

    نقدِ رحمت بہ کف و جنس شفاعت بہ بغل

    مصطفیٰ شرح لقد جاء رسول منکم

    مصطفیٰ معنیِ ما ینطق ما قل و دل

    مصطفیٰ نطقِ خدا ان ھوا الا یوحیٰ

    مصطفیٰ سرمۂ مازاغ بچشمِ اشہل

    مصطفیٰ جلوہ دہِ منزلِ قابَ قوسین

    مصطفیٰ معنیِ لولاک لما کا مجمل

    مصطفیٰ مہر جہاں تاب و ما ارسلنٰک

    مصطفیٰ خاتم والشمس کا روشن مصقل

    مصطفیٰ کنت نبیاً بزمانِ ماضی

    مصطفیٰ ہادیٔ مستقبل و خود مستقبل

    فخر ہے فخر ترا سب ترے در پر سائل

    اغنیاء ہیں ترے محتاجِ گدا اہلِ دول

    سن لے اب ثاقبِؔ مداح کی دو دو باتیں

    مدح خوانی کے سوا اور نہیں حسنِ عمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے