تکتی رہتی ہیں رہِ طیبہ مسلسل آنکھیں
تکتی رہتی ہیں رہِ طیبہ مسلسل آنکھیں
شوقِ دیدار میں ہو جائیں نہ پاگل آنکھیں
مجھ سے بڑھ کر مری آنکھوں کو مدینے کی طلب
میں نہ جاؤں تو چلے جائیں گی پیدل آنکھیں
سفرِ شہرِ نبی کرنا چراغوں کے بغیر
رات ہو جائے تو بن جائیں گی مشعل آنکھیں
نقشِ پا ان کے چمکتے سرِ خاک عرب
ان کے قدموں کے نشاں جیسے مکمل آنکھیں
ان کے دیدار کی نسبت یہ ہوئیں شہر مزاج
اور محرومِ زیارت ہوں تو جنگل آنکھیں
منظرِ شہرِ نبی آنکھ میں آئے اور پھر
ایسی نیند آئے کہ ہو جائیں مقفل آنکھیں
فرطِ جذبات میں دربارِ نبی میں خالدؔ
اس طرح ٹوٹ کے برسیں کہ ہوں بادل آنکھیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.