Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

تکتی رہتی ہیں رہِ طیبہ مسلسل آنکھیں

خالد عرفان

تکتی رہتی ہیں رہِ طیبہ مسلسل آنکھیں

خالد عرفان

MORE BYخالد عرفان

    تکتی رہتی ہیں رہِ طیبہ مسلسل آنکھیں

    شوقِ دیدار میں ہو جائیں نہ پاگل آنکھیں

    مجھ سے بڑھ کر مری آنکھوں کو مدینے کی طلب

    میں نہ جاؤں تو چلے جائیں گی پیدل آنکھیں

    سفرِ شہرِ نبی کرنا چراغوں کے بغیر

    رات ہو جائے تو بن جائیں گی مشعل آنکھیں

    نقشِ پا ان کے چمکتے سرِ خاک عرب

    ان کے قدموں کے نشاں جیسے مکمل آنکھیں

    ان کے دیدار کی نسبت یہ ہوئیں شہر مزاج

    اور محرومِ زیارت ہوں تو جنگل آنکھیں

    منظرِ شہرِ نبی آنکھ میں آئے اور پھر

    ایسی نیند آئے کہ ہو جائیں مقفل آنکھیں

    فرطِ جذبات میں دربارِ نبی میں خالدؔ

    اس طرح ٹوٹ کے برسیں کہ ہوں بادل آنکھیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے