Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

خشک تھے زندگی کے ویرانے

خادم کیتھلی

خشک تھے زندگی کے ویرانے

خادم کیتھلی

MORE BYخادم کیتھلی

    خشک تھے زندگی کے ویرانے

    آ گئے آپ پھول برسانے

    جان دے دے کے شمعِ رحمت پر

    زنده تر ہو گئے ہیں پروانے

    تشنہ کاموں کی سمت بڑھتے ہیں

    خود بخود رحمتوں کے میخانے

    ابرِ رحمت نے یوں کیا شاداب

    برق سے جل سکے نہ کاشانے

    میں درِ بت شکن پہ حاضر ہوں

    دل میں لے کر کئی صنم خانے

    آگہی تیرے در سے لیتے ہیں

    سارے فرزانے سارے دیوانے

    بارگاه سکوں میں لایا ہوں

    مضطرب آنسوؤں کے نذرانے

    آپ خادمؔ پہ مہربان رہیں

    لاکھ ہو جائیں اپنے بیگانے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے