خشک تھے زندگی کے ویرانے
خشک تھے زندگی کے ویرانے
آ گئے آپ پھول برسانے
جان دے دے کے شمعِ رحمت پر
زنده تر ہو گئے ہیں پروانے
تشنہ کاموں کی سمت بڑھتے ہیں
خود بخود رحمتوں کے میخانے
ابرِ رحمت نے یوں کیا شاداب
برق سے جل سکے نہ کاشانے
میں درِ بت شکن پہ حاضر ہوں
دل میں لے کر کئی صنم خانے
آگہی تیرے در سے لیتے ہیں
سارے فرزانے سارے دیوانے
بارگاه سکوں میں لایا ہوں
مضطرب آنسوؤں کے نذرانے
آپ خادمؔ پہ مہربان رہیں
لاکھ ہو جائیں اپنے بیگانے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.