روشن ہے زمیں روشن ہے فلک ہر بزم میں ایک اجالا ہے
روشن ہے زمیں روشن ہے فلک ہر بزم میں ایک اجالا ہے
محبوب خدا کی آمد پر ہر نقشِ جہاں دوبالا ہے
دنیا بھی تری عقبیٰ بھی ترا ایماں بھی ترا مذہب بھی ترا
ہے خاتمہ تجھ پہ رسالت کا اللہ کا تو متوالا ہے
ڈوبا ہوا عرفاں کی لے میں ہے احمدِ مرسل کا جلوہ
حق نے اسی جلوے کو گویا خود اپنے نور میں ڈھالا ہے
کوثر میں نہا کر نکلا ہے چاند اور ستاروں کا عالم
آمد پہ تری فطرت نکھری ہر چیزکا حسن دو بالا ہے
اے چرخؔ نہیں کچھ فکر مجھے گزرے ہیں گناہوں میں لمحے
محشر میں وہی ضامن ہے مرا دنیا میں جس نے سنبھالا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.