Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

ہر مصیبت سے بچا لے مجھ کو شاہِ انبیا

بیدل سرحدی

ہر مصیبت سے بچا لے مجھ کو شاہِ انبیا

بیدل سرحدی

MORE BYبیدل سرحدی

    ہر مصیبت سے بچا لے مجھ کو شاہِ انبیا

    پاس تو اپنے بلا لے مجھ کو شاہِ انبیا

    نیند کا عالم ہے گو کہنے کو میں بیدار ہوں

    بے سہارا ہوں اکیلا ہوں بہت لاچار ہوں

    جی نہیں لگتا ہے دنیا میں بہت بیزار ہوں

    ہر گھڑی بس آفتوں سے برسرِ پیکار ہوں

    ڈوبنے کو ہوں بچا لے مجھ کو شاہِ انبیا

    پاس تو اپنے بلا لے مجھ کو شاہِ انبیا

    لگ رہا ہے ڈر تلاطم خیز لہروں سے مجھے

    دشت و صحرا کے جھلستے سنگ ریزوں سے مجھے

    جھانکتی ہے زندگی غم کے جھروکوں سے مجھے

    ڈر سا لگتا ہے قضا کے اب سوالوں سے مجھے

    اپنے قدموں میں بٹھا لے مجھ کو شاہِ انبیا

    پاس تو اپنے بلا مجھ کو شاہِ انبیا

    ہوں بت بیکس پکاروں کس کو اب تیرے سوا

    کون سنتا ہے جہاں میں اب غریبوں کی صدا

    کس سے جا کر اب کرے بیدل ترا شکوہ گلا

    تیری خاکِ پا ہوں مالک بخش دے میری خطا

    اپنے دامن میں چھپا لے مجھ کو شاہِ انبیا

    پاس تو اپنے بلا لے مجھ کو شاہِ انبیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے