ہر مصیبت سے بچا لے مجھ کو شاہِ انبیا
ہر مصیبت سے بچا لے مجھ کو شاہِ انبیا
پاس تو اپنے بلا لے مجھ کو شاہِ انبیا
نیند کا عالم ہے گو کہنے کو میں بیدار ہوں
بے سہارا ہوں اکیلا ہوں بہت لاچار ہوں
جی نہیں لگتا ہے دنیا میں بہت بیزار ہوں
ہر گھڑی بس آفتوں سے برسرِ پیکار ہوں
ڈوبنے کو ہوں بچا لے مجھ کو شاہِ انبیا
پاس تو اپنے بلا لے مجھ کو شاہِ انبیا
لگ رہا ہے ڈر تلاطم خیز لہروں سے مجھے
دشت و صحرا کے جھلستے سنگ ریزوں سے مجھے
جھانکتی ہے زندگی غم کے جھروکوں سے مجھے
ڈر سا لگتا ہے قضا کے اب سوالوں سے مجھے
اپنے قدموں میں بٹھا لے مجھ کو شاہِ انبیا
پاس تو اپنے بلا مجھ کو شاہِ انبیا
ہوں بت بیکس پکاروں کس کو اب تیرے سوا
کون سنتا ہے جہاں میں اب غریبوں کی صدا
کس سے جا کر اب کرے بیدل ترا شکوہ گلا
تیری خاکِ پا ہوں مالک بخش دے میری خطا
اپنے دامن میں چھپا لے مجھ کو شاہِ انبیا
پاس تو اپنے بلا لے مجھ کو شاہِ انبیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.