ہو جائے وقف جو شہِ بطحا کی چاہ میں
ہو جائے وقف جو شہِ بطحا کی چاہ میں
رہتا ہے عمر بھر وہ خدا کی پناہ میں
رکھے جہاں میں جب مرے سرکار نے قدم
روشن خدا کا دین ہوا گاہ گاہ میں
ممکن کہاں بیاں ہو کمالِ درِ حضور
بنتی ہے سب کی بات اسی بارگاہ میں
موسیٰ بھی تاب لا نہ سکے جس کے حسن کی
ہے جلوۂ گر وہ نور نبی کی نگاہ میں
حرفِ ثنائے سرورِ کونین کے طفیل
پاتا ہوں اپنے آپ کو طیبہ کی راہ میں
جو شان مصطفیٰ کے غلاموں سے ہے عیاں
ممکن کہاں وہ بات کسی بادشاہ میں
چمکیں جہاں میں کیوں نہ شب و روز اے عزیزؔ
پنہاں ہے نورِ صلِ علیٰ مہر و مہ میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.