Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

ان کے ناوک آکے سینے میں مرے کیا دیکھتے

بیدم شاہ وارثی

ان کے ناوک آکے سینے میں مرے کیا دیکھتے

بیدم شاہ وارثی

MORE BYبیدم شاہ وارثی

    ان کے ناوک آکے سینے میں مرے کیا دیکھتے

    دل کے ہر گوشے میں ارمانوں کی دنیا دیکھتے

    لطف تو جب تھا کہ ہم تو دیکھتے ان کا جمال

    اور ہماری بے خودی کا وہ تماشا دیکھتے

    باغ میں چھپ چھپ کے جانے کا نتیجہ مل گیا

    کتنے شرمائے وہ جب نرگس کو دیکھا دیکھتے

    طائعِ بیدار دکھلاتا تری صورت تو ہم

    دیدۂ یعقوب سے خوابِ زلیخا دیکھتے

    اشکِ حسرت کی فروانی بھی اک طوفان ہے

    یوں تو قطرہ ہے جو بہہ جاتا تو دریا دیکھتے

    جوشِ وحشت میں دکھاتے ہمتِ دستِ جنوں

    ہم اگر کچھ وسعت دامانِ صحرا دیکھتے

    قافلے پہنچے ہزاروں منزل مقصود تک

    ہم اکیلے رہ گئے نقشِ کفِ پا دیکھتے

    دید گل کے واسطے بلبل کی آنکھیں چاہیے

    قیس کی آنکھوں سے بیدمؔ حسنِ لیلیٰ دیکھتے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے