Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

جو محفل سے ان کی نکالے ہوئے ہیں

سیف الدین سیف

جو محفل سے ان کی نکالے ہوئے ہیں

سیف الدین سیف

MORE BYسیف الدین سیف

    جو محفل سے ان کی نکالے ہوئے ہیں

    غم دو جہاں کے حوالے ہوئے ہیں

    ذرا تیرے گیسو جو بکھرے ہیں رخ پر

    اندھیرے ہوئے ہیں اجالے ہوئے ہیں

    ترے وصل کی آرزو توبہ توبہ

    یہ ارمان دل سے نکالے ہوئے ہیں

    یہ کون آ رہا ہے کہ سب اہل محفل

    متاع دل و جاں سنبھالے ہوئے ہیں

    فسانہ ہے دل جن کی بے مہریوں کا

    وہی درد دل سننے والے ہوئے ہیں

    بڑا صاف تھا راستہ زندگی کا

    تری زلف نے پیچ ڈالے ہوئے ہیں

    یہاں سیفؔ ہر دن قیامت کا دن ہے

    وہ کس حشر پر بات ٹالے ہوئے ہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے