نہ تو چین کے کسی "نقش گر" سے ہوا یہ کارفسوں گری
دلچسپ معلومات
نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "نہ از نقاش چیں ہر گز چنیں صورت گری آمد" کا اردو منظوم ترجمہ۔
نہ تو چین کے کسی نقش گر سے ہوا یہ کارفسوں گری
نہ پہنچ سکا ترے حسن کو وہ کمال صنعتِ آذری
یہ ہے شرط دین محمدی نہ تو ظلم ڈھا نہ تو قتل کر
مجھے عشق ہے تو برا ہے کیا کہ مرا طریق ہے کافری
یہ عجیب حال ہے آج کیوں مرے اشک چشم سے ہیں رواں
مرے دل کو آج یہ کیا ہوا کہیں آ گیا مرا لشکری
یہ جو دل میں عشق کے داغ ہیں انہیں حسن والوں نے ہیں دیے
مری بے کسی کو تو دیکھیے کہ ملی ہے ان کو ہی داوری
تو غلام عشق ہو خسروا یہ رضائے دوست ہے سر جھکا
نہ خرد کی سن تو حکایتیں کہ حدیث عقل ہے سرسری
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 129)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.