Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

نہ تو چین کے کسی "نقش گر" سے ہوا یہ کارفسوں گری

رام کرشن مضطر

نہ تو چین کے کسی "نقش گر" سے ہوا یہ کارفسوں گری

رام کرشن مضطر

MORE BYرام کرشن مضطر

    دلچسپ معلومات

    نوٹ : امیر خسروؔ کی فارسی غزل "نہ از نقاش چیں ہر گز چنیں صورت گری آمد" کا اردو منظوم ترجمہ۔

    نہ تو چین کے کسی نقش گر سے ہوا یہ کارفسوں گری

    نہ پہنچ سکا ترے حسن کو وہ کمال صنعتِ آذری

    یہ ہے شرط دین محمدی نہ تو ظلم ڈھا نہ تو قتل کر

    مجھے عشق ہے تو برا ہے کیا کہ مرا طریق ہے کافری

    یہ عجیب حال ہے آج کیوں مرے اشک چشم سے ہیں رواں

    مرے دل کو آج یہ کیا ہوا کہیں آ گیا مرا لشکری

    یہ جو دل میں عشق کے داغ ہیں انہیں حسن والوں نے ہیں دیے

    مری بے کسی کو تو دیکھیے کہ ملی ہے ان کو ہی داوری

    تو غلام عشق ہو خسروا یہ رضائے دوست ہے سر جھکا

    نہ خرد کی سن تو حکایتیں کہ حدیث عقل ہے سرسری

    مأخذ :
    • کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 129)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے