پھیلا تو رہے ہیں زہر مگر اکسیر کی باتیں کرتے ہیں
پھیلا تو رہے ہیں زہر مگر اکسیر کی باتیں کرتے ہیں
تخریب چمن کرنے والے تعمیر کی باتیں کرتے ہیں
لانے سے سحر آئے گی نہیں، شب زاد سحر کیا لائیں گے
ظلمات میں لے جانے کے لیے تنویر کی باتیں کرتے ہیں
قسمت کی رسائی جب تک ہے تدبیر کا ہوتا ہے چرچا
تدبیر جب الٹی پڑتی ہے تقدیر کی باتیں کرتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.