رمزِ خفی اور سرِّ نہاں
رمزِ خفی اور سرِّ نہاں
کہتا ہوں میں سنیو جاں
اپنے آپ کوں خوب پہچان
جے چاہیں حق کا عرفاں
عرف النفس کوں بیشک دائم
عرف اللہ جزا ہے لازم
یعنی ممکن ہے نابود
نا نہہ مشہود نہیں وجود
ظاہر علم موں ہے معلوم
حضرت عین موں ہے معدوم
تا ہے اس کوں ذات صفات
نا نہہ کجھ کام نہیں کجھ بات
نا نہہ زمان مکان سوں کام
نا نہہ نشان نہیں کجھ کام
لیس لہ فی الکون مجال
لا فی لماضی لا فی الحال
صور خیالی ہیں اعیان
حق ہی ظاہر فی الکوان
ایک ہی ذات تمام صفات
اس کوں ثابت بے اثبات
ایک ہی ذات تمام اسما
اس کوں ثابت ہر ہر جا
ایک ہی ذات سبھ اس کے نام
کہیں ہے خواجہ کہیں غلام
ناہیں تجھ کوں ذات وصفات
کوں ہیں کیا ہیں کہہ دی بات
عربی کیا کہتے ہیں خوش
ثبت عرشۂ ثم النقش
پھر اعیاں کی سن توں بات
ان ھی الا کا ما وات
کیا کہیے اعیان کی خوبی
سبھ اسما و صفات و جوبی
روشن ہوئے ان موں صاف
بالآشار و بالاوصاف
- کتاب : جواہرِ تصوف (Pg. 24)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.