یہ رت یہ بسنتی رت ظالم سردی گرمی سے گلے ملتی
یہ رت یہ بسنتی رت ظالم سردی گرمی سے گلے ملتی
ہر سو سودائے نظر ارزاں ہر سو زنجیر جنوں ہلتی
موسم کی بہار افزائی سے گلزاروں میں کلیاں کھلتی
پھاگن کے گلابی چھینٹوں سے ہر سو سبزے اگ آئے ہیں
سرسوں پھولی کلے پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں
کھیتوں میں ہوا کے چلنے سے لہراتی ہے جو کی بالی
ہلکے ہلکے بادل میں چھپتی چلتی ہوئی سورج کی تھالی
پھاگن کی ہوائے دلکش سے شاداب ہے جامن کی ڈالی
آخر میں مٹر کے پھول کہیں آموں میں کہیں بور آئے ہیں
سرسوں پھولی کلے پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں
جلوؤں کا وہ جھرمٹ ہوتا ہے پھاگن کے بستی میلوں میں
جیسے کبھی جمگھٹ ہوتا ہے آئینہ رخوں کے ریلوں میں
دل ہار گئے ہیں اہل نظر ان ذوق نظر کے کھیلوں میں
ہر گام پہ ایسے میلوں میں اک پارۂ دل چھوڑ آئے ہیں
سرسوں پھولی کلے پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں
شفاف جبینوں نے جیسے افلاک سے بادل توڑے ہیں
اس شوخ نے آنچل ڈالا ہ اس شوخ نے بازو موڑے ہیں
چہروں پہ بسنتی عالم ہے جسموں پہ بسنتی جوڑے ہیں
اس رنگ نے جانے کتنوں کے احساس پہ محشر ڈھائے ہیں
سرسوں پھولی کلے پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں
اک یاد حسیں کے ہاتھوں سے پھر ضبط کے نالے ٹوٹے ہیں
رستی ہے شراب اشک الم پھر غم کے پیالے ٹوٹے ہیں
پھر تازہ ہوا ہی زخم جگر پھر قلب کے چھالے ٹوٹے ہیں
اس رت نے گذشتہ افسانے اس رنگ سے کچھ دہرائے ہیں
سرسوں پھولی کلے پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں
اس رت میں سڑک پر کچھ دہقاں بیٹھے ہوئے ہیں ماندے ہارے
دولت کے مشینوں کے ٹوٹے قسمت کے شکنجوں کے مارے
فاقوں کی مصیبت سے جن کو آتے ہیں نظروں کو تارے
اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو روتا ہوا گھر چھوڑ آئے ہیں
سرسوں پھولی کلے پھوٹے چھٹکے ہوئے بادل چھائے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.