جب پھول کا سرسوں کے ہوا آ کے کھلنتا
جب پھول کا سرسوں کے ہوا آ کے کھلنتا
اور عیش کی نظروں سے نگاہوں کا لڑنتا
ہم نے بھی دل اپنے کے تئیں کر کے نچنتا
اور ہنس کے کہا یار سے اے لکڑ بھونتا
سب کی تو بسنیں ہیں پہ یاروں کا بسنتا
اک پھول کا گیندوں کے منگایا ہے بجرا
دس من کا لیا ہار گندھا ہاتھ کا گجرا
جب آنکھ سے سورج کی ڈھلا رات کا گجرا
جا یار سے مل کر یہ کہا اے مرے رجرا
سب کی تو بسنتیں ہیں پہ یاروں کا بسنتا
تھے اپنے گلے میں تو کئی من کے پڑے ہار
اور یار کے گجرے بھی تھے اک دھون کی مقدار
آنکھوں میں نشے مے کے ابلتے تھے دھواں دھار
جو سامنے آتا تھا یہی کہتے تھے للکار
سب کی تو بسنتیں ہیں یہ یاروں کا بسنتا
پگڑی میں ہماری تھے جو گیندوں کے کئی پیڑ
ہر جھونک میں لگتی تھی بسنتوں کے تئیں ایڑ
ساقی نے بھی مٹکے سے دیا منہ کے تئیں بھیڑ
ہر بات میں ہوتی تھی اسی بات کی آ چھیڑ
سب کی تو بسنتیں ہیں پہ یاروں کا بسنتا
پھر راگ بسنتی کا ہوا آن کے کھٹکا
دھونسے کے برابر وہ لگایا باجنے مٹکا
دل کھیت میں سرسوں کے ہر اک پھول سے اٹکا
ہر بات میں ہوتا تھا اسی بات کا لٹکا
سب کی تو بسنتیں ہیں پہ یاروں کا بسنتا
جب کھیت پہ سرسوں کے دیا جا کے قدم گاڑا
سب کھیت اٹھا سر کے اپر رکھ لیا جھجاڑ
محبوب رنگیلوں کی بھی اک ساتھ لگی جھاڑ
ہر جھاڑ سے سرسوں کے بھی کہتی تھی ابھی جھاڑ
سب کی تو بسنتیں ہیں پہ یاروں کا بسنتا
خوش بیٹھے ہیں سب شاہ و وزیر آج آہا ہا
دل شاد ہیں ادنیٰٰ و فقیر آج آہا ہا
بلبل کی نکلتی ہے صفیر آج آہا ہا
کہتا یہی پھرتا ہے نظیرؔ آج آہا ہا
سب کی تو بسنتیں ہیں پہ یاروں کا بسنتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.