جلوۂ بسنت
آئی ہے دلہن بن کر جوبن ہے نویلی پر
نرگس کی بھنیلی پر چمپا کی سہیلی پر
رنگت ہے بسنتوں کی کیا زور چنبیلی پر
فطرت نے جمائی ہے سرسوں سی ہتھیلی پر
کشمیر کے کھیتوں میں کیسر کا نظارا ہے
گیندا بھی بسنتوں میں کھل کھل کے ہزارا ہے
پھولوں میں گل ٹیسو تاروں میں ثریا ہے
یا برج کی گلیوں میں گوکل کا کنھیا ہے
ہر گن میں رسیا ہے بنسی کا بجیا ہے
رنگین مزاجوں میں ہولی کا کھلیا ہے
اک آتش گل روشن ہے ڈھاک کے سینوں میں
یا لعل مزین ہیں جنگل کی زمینوں میں
سرسوں کے گل تازہ طرے ہیں بہاروں کے
یا حسن کے ماتھے پر جھومر ہیں ستاروں کے
ہر نخل کی شاخوں پر جھرمٹ ہیں ہزاروں کے
میلے ہیں حسینوں کے جلسے ہیں نگاروں کے
چلتا ہوا سکہ ہے ہر پھول زمانے میں
سونے کی ہیں اشرفیاں فطرت کے خزانے میں
شبنم نے دیئے چھینٹے سبزے کے جگانے کو
دامن میں بھرے موتی لائی تھی لٹانے کو
اترا کے نسیم آئی غنچوں کے ہنسانے کو
جھوکوں کے شگوفوں سے شاخوں کے ہلانے کو
ہے رنگ بہاروں کا ہر رنگ میں پوشیدہ
ہم رنگ ہے موسم کے ہر برگ خزاں دیدہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.