Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

جلوۂ بسنت

MORE BYچندر بھان کیفی دہلوی

    آئی ہے دلہن بن کر جوبن ہے نویلی پر

    نرگس کی بھنیلی پر چمپا کی سہیلی پر

    رنگت ہے بسنتوں کی کیا زور چنبیلی پر

    فطرت نے جمائی ہے سرسوں سی ہتھیلی پر

    کشمیر کے کھیتوں میں کیسر کا نظارا ہے

    گیندا بھی بسنتوں میں کھل کھل کے ہزارا ہے

    پھولوں میں گل ٹیسو تاروں میں ثریا ہے

    یا برج کی گلیوں میں گوکل کا کنھیا ہے

    ہر گن میں رسیا ہے بنسی کا بجیا ہے

    رنگین مزاجوں میں ہولی کا کھلیا ہے

    اک آتش گل روشن ہے ڈھاک کے سینوں میں

    یا لعل مزین ہیں جنگل کی زمینوں میں

    سرسوں کے گل تازہ طرے ہیں بہاروں کے

    یا حسن کے ماتھے پر جھومر ہیں ستاروں کے

    ہر نخل کی شاخوں پر جھرمٹ ہیں ہزاروں کے

    میلے ہیں حسینوں کے جلسے ہیں نگاروں کے

    چلتا ہوا سکہ ہے ہر پھول زمانے میں

    سونے کی ہیں اشرفیاں فطرت کے خزانے میں

    شبنم نے دیئے چھینٹے سبزے کے جگانے کو

    دامن میں بھرے موتی لائی تھی لٹانے کو

    اترا کے نسیم آئی غنچوں کے ہنسانے کو

    جھوکوں کے شگوفوں سے شاخوں کے ہلانے کو

    ہے رنگ بہاروں کا ہر رنگ میں پوشیدہ

    ہم رنگ ہے موسم کے ہر برگ خزاں دیدہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے