Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

بہار بسنت

MORE BYچندر بھان کیفی دہلوی

    موسم بہار کا ہے زمانہ بسنت کا

    بلبل سنا رہا ہے ترانہ بسنت کا

    عنواں نئے نئے ہیں چمن میں بہار کے

    گل کا ورق ورق ہے فسانہ بسنت کا

    غنچوں کی مٹھیاں ہیں جو زر سے بھری ہوئی

    گلچیں لٹا رہا ہے خزانہ بنست کا

    ساغر بکف چمن میں ہیں پھولوں کی ڈالیاں

    پینے کو مل گیا ہے بہانہ بسنت کا

    گلزار میں بہار بدامن ہے ہر حسیں

    رشک ارم ہے آئینہ خانہ بسنت کا

    سنبل کی کاکلوں کا سلجھنا محال تھا

    بادبہار بن گئی مشانہ بسنت کا

    سرسوں کے پھول کھل گئے کھیتوں میں جابجا

    اک خرمن مراد ہے دانہ بسنت کا

    ٹیسو پہ بہار گلوں پر نکھار ہے

    ہے اب چمن چمن میں ٹھکانہ بسنت کا

    تشنہ لبوں کے حال پہ تیری نظر نہیں

    کیا ساقیا بسنت کی تجھ کو خبر نہیں

    سردی کی رفتہ رفتہ جوانی ہی ڈھل رہی

    ہے برف کوہسار کے سر سے پگھل رہی

    لطف بہار کیوں نہ ہو موسم ہے معتدل

    سو سو طرح امنگ ہے دل میں مچل رہی

    اک جنبش نظر سے ہے نیرنگ انقلاب

    دنیائے حسن و عشق ہے کروٹ بدل رہی

    ساقی کی چشم مست کے انداز دیکھ کر

    شیشے کی کنتروں میں ہے صہبا اچھل رہی

    کس ناز سے سبزۂ بیگانہ خواب میں

    بادبہار صحن چمن میں ہے چل رہی

    بادصبا کی لغزش مستانہ دیکھئے

    گرکر روش روش پہ ہے کیا کیا سنبھل رہی

    کھل کھل کے ہر کلی سے نکلتی ہے بوئے ناز

    یا نامراد دل کی ہے حسرت نکل رہی

    گرمی سے حسن کی رخ گل ہے عرق عرق

    اس پر نسیم ناز سے پنکھا ہے جھل رہی

    کیفیؔ رتوں میں راج رتو ہے بسنت کی

    ہر شوخ ہر شجر میں نمو ہے بسنت کی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے