بہار بسنت
موسم بہار کا ہے زمانہ بسنت کا
بلبل سنا رہا ہے ترانہ بسنت کا
عنواں نئے نئے ہیں چمن میں بہار کے
گل کا ورق ورق ہے فسانہ بسنت کا
غنچوں کی مٹھیاں ہیں جو زر سے بھری ہوئی
گلچیں لٹا رہا ہے خزانہ بنست کا
ساغر بکف چمن میں ہیں پھولوں کی ڈالیاں
پینے کو مل گیا ہے بہانہ بسنت کا
گلزار میں بہار بدامن ہے ہر حسیں
رشک ارم ہے آئینہ خانہ بسنت کا
سنبل کی کاکلوں کا سلجھنا محال تھا
بادبہار بن گئی مشانہ بسنت کا
سرسوں کے پھول کھل گئے کھیتوں میں جابجا
اک خرمن مراد ہے دانہ بسنت کا
ٹیسو پہ بہار گلوں پر نکھار ہے
ہے اب چمن چمن میں ٹھکانہ بسنت کا
تشنہ لبوں کے حال پہ تیری نظر نہیں
کیا ساقیا بسنت کی تجھ کو خبر نہیں
سردی کی رفتہ رفتہ جوانی ہی ڈھل رہی
ہے برف کوہسار کے سر سے پگھل رہی
لطف بہار کیوں نہ ہو موسم ہے معتدل
سو سو طرح امنگ ہے دل میں مچل رہی
اک جنبش نظر سے ہے نیرنگ انقلاب
دنیائے حسن و عشق ہے کروٹ بدل رہی
ساقی کی چشم مست کے انداز دیکھ کر
شیشے کی کنتروں میں ہے صہبا اچھل رہی
کس ناز سے سبزۂ بیگانہ خواب میں
بادبہار صحن چمن میں ہے چل رہی
بادصبا کی لغزش مستانہ دیکھئے
گرکر روش روش پہ ہے کیا کیا سنبھل رہی
کھل کھل کے ہر کلی سے نکلتی ہے بوئے ناز
یا نامراد دل کی ہے حسرت نکل رہی
گرمی سے حسن کی رخ گل ہے عرق عرق
اس پر نسیم ناز سے پنکھا ہے جھل رہی
کیفیؔ رتوں میں راج رتو ہے بسنت کی
ہر شوخ ہر شجر میں نمو ہے بسنت کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.