Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama

بسنتی پتی

MORE BYچندر بھان کیفی دہلوی

    بسنت رت ہے بہار شباب کی پتی

    مہک رہی ہے گل آفتاب کی پتی

    جبین ناز کا جومر ہے پھول سرسوں کا

    عروس حسن کا زیور گلاب کی پتی

    نظارہ دیکھنا ہے ہم کو حسن فطرت کا

    ہٹا دو چہرۂ گل سے حجاب کی پتی

    ہے زخم زخم میں تیرادا سے گل کاری

    ستم کشوں نے یہی انتخاب کی پتی

    کسی کا غنچۂ دل تو نہیں ہے یاروں میں

    مسل مسل کے جو تم نے خراب کی پتی

    سفید ریش بھی بھرتے ہیں دم جوانی کا

    ہوئی حنا سے نمایاں خضاب کی پتی

    گلوں کے باد بہاری نے پتری کھولے

    ورق ورق ہے طلائی کتاب کی پتی

    وطن پرستوں نے پہنے ہیں کیسری جامے

    کہ سبز ہے شجر انقلاب کی پتی

    شکستہ ہو گیا سازوطن میں سوز نہیں

    اکھڑ گئی مرے چنگ و رباب کی پتی

    بسنت آئی ہے رندوں میں بیٹھ کر کیفیؔ

    ہم شریک ہو ڈالو شراب کی پتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے