بسنتی پتی
بسنت رت ہے بہار شباب کی پتی
مہک رہی ہے گل آفتاب کی پتی
جبین ناز کا جومر ہے پھول سرسوں کا
عروس حسن کا زیور گلاب کی پتی
نظارہ دیکھنا ہے ہم کو حسن فطرت کا
ہٹا دو چہرۂ گل سے حجاب کی پتی
ہے زخم زخم میں تیرادا سے گل کاری
ستم کشوں نے یہی انتخاب کی پتی
کسی کا غنچۂ دل تو نہیں ہے یاروں میں
مسل مسل کے جو تم نے خراب کی پتی
سفید ریش بھی بھرتے ہیں دم جوانی کا
ہوئی حنا سے نمایاں خضاب کی پتی
گلوں کے باد بہاری نے پتری کھولے
ورق ورق ہے طلائی کتاب کی پتی
وطن پرستوں نے پہنے ہیں کیسری جامے
کہ سبز ہے شجر انقلاب کی پتی
شکستہ ہو گیا سازوطن میں سوز نہیں
اکھڑ گئی مرے چنگ و رباب کی پتی
بسنت آئی ہے رندوں میں بیٹھ کر کیفیؔ
ہم شریک ہو ڈالو شراب کی پتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.