اے بسنت اے ہر خزاں_دیدہ کے دل کی آرزو
اے بسنت اے ہر خزاں دیدہ کے دل کی آرزو
اے بسنت اے خار و خس کے حق میں پیغام نمو
غازۂ روئے گلستاں اے بہار زندگی
اے دل افسردہ کے حق میں قرار زندگی
یاد ہیں وہ دن نفاق اس دیس میں آیا نہ تھا
در پے آزاد ہمایے کا ہمایا نہ تھا
آہ وہ دن یہ ہو اے تند جب چلتی نہ تھی
جب شراب عیش غم کے جام میں ڈھلتی نہ تھی
آہ وہ دن ہندو و مسلم میں جب باہم تھا پیار
جب تھی اخلاص و محبت کی فضائے سازگار
آہ نغمے عید کے جب مل کے ہم گاتے رہے
رام لیلا دیکھنے مل جل کے ہم جاتے رہے
شور ناقوس و اذاں میں جب نہ تھا کچھ امتیاز
جب نہ فتنہ تھا یہاں کوئی نہ کوئی فتنہ ساز
جب ہمارے دم سے تھی آن وطن شان وطن
پھاگ مل کر کھیلتے تھے جب جوانان وطن
تعزیے کو دے کے کاندھا جب تھے خوش اہل ہنود
جب دسہرے میں مسلماں تھے بجاتے چنگ و عود
ہاں وہ دن الفت کے دن فرحت کے دل شادی کے دن
وہ مسرت کی فضائیں اور وہ آزادی کے دن
2
یاد ہیں وہ دن تو لا وہ عہد ماضی کی بہار
جو دلوں سے دور کر ڈالے کدورت کا غبار
تیرے گل بوٹے ہمارے کام آ سکتے نہیں
بات جو بگڑی ہے اس کو یہ بنا سکتے نہیں
کیا کریں ہم اس بہار رنگ و بو کو کیا کریں
بادۂ گل رنگ کو گل کو سبو کو کیا کریں
ہم کو دنیا ہے تو صلح و آشتی کا جام دے
ہندو و مسلم کو پھر اخلاص کا پیغام دے
اے بسنت اک اپنے پھولوں سے بنا تعمیر نو
خواب دیرین وطن کی اک سنا تعبیر نو
تیرے دامن میں ہیں جیسے گل قطار اندر قطار
اور ہر اک پھول رکھتا ہے جدا اپنی بہار
سب کے سب ہوتے ہیں لیکن غازۂ ردے چمن
ہم بھی اس انداز سے ہوں زینت باغ وطن
پھر منائیں ہم تجھے پھر گیت گائیں پریت کے
پھر یہاں نقشے جمائیں عاشقوں کی ریت کے
ذرہ ذرہ پھر یہاں فردوس کی تصویر ہو
بوستاں بھی غیرت نظارۂ کشمیر ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.