Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Baba Farid's Photo'

बाबा फ़रीद

1173 - 1266 | कोथेवाल, पाकिस्तान

बारहवीं सदी के मुबल्लिग़ और सूफ़ी बुज़ुर्ग थे, उनको क़ुरून-इ-वुस्ता के सबसे मुमताज़ और क़ाबिल-ए-एहतिराम सूफ़िया में से एक कहा गया है, उनका मज़ार पाकपतन, पाकिस्तान में है

बारहवीं सदी के मुबल्लिग़ और सूफ़ी बुज़ुर्ग थे, उनको क़ुरून-इ-वुस्ता के सबसे मुमताज़ और क़ाबिल-ए-एहतिराम सूफ़िया में से एक कहा गया है, उनका मज़ार पाकपतन, पाकिस्तान में है

बाबा फ़रीद के सूफ़ी उद्धरण

110
Favorite

श्रेणीबद्ध करें

ज़िंदा दिल वही है, जिसमें मोहब्बत और तड़प मौजूद हो।

दरवेश मर जाए, पर ख़ुद को संतुष्ट करने के लिए कभी क़र्ज़ ले, क्योंकि क़र्ज़ और ख़ुदा पर भरोसे में पूरब-पश्चिम का फ़र्क़ है।

अगर ज़िंदगी है तो इल्म में है, अगर राहत है तो पहचान (मअरिफ़त) में है, अगर चाहत है तो मोहब्बत में है और अगर सुख है तो ज़िक्र में है।

जैसे हो वैसे ही दिखो, वरना लोग तुम्हारी असलियत सामने ले आएँगे।

नेकी करने के बहाने ढूँढो।

ऐसी चीज़ मत बेचो, जो ख़रीदी नहीं जा सकती।

रिवाज और किताबों से सीखा हुअ कुछ नहीं, असली चीज़ तो अच्छा किरदार है, उसी से इंसान को नजात मिलती है।

अपने बाहरी रूप से ज़्यादा अंदर के रूप को जानो।

वक़्त का कोई विकल्प नहीं होता।

ज़रूरतमंदों को कभी भूलो।

دنیا کی محبت ایک چھپی ہوئی بلا ہے جو خامشی سے دل کو ویران کر کے بندے کو رب سے بیگانہ کر دیتی ہے۔

ہر مقام پر موت کو یاد رکھ، کہ یہی غفلت کا علاج اور بیداری کا راز ہے۔

سکون چاہتا ہے؟ تو حسد چھوڑ دے، کہ حسد دل کا زہر ہے اور زہر میں آرام نہیں ہوتا۔

باطن سنوار، ظاہر خود نکھر جائے گا کہ خدا دل کو دیکھتا ہے، نہ کہ لباس کو۔

اپنے نفس سے نکل جانا، رب تک پہنچنے کا راستہ ہے، جو خود سے بچ گیا وہ خدا سے جا ملا۔

ہنسی مزاق اور غصہ کو کمزوری کی علامت سمجھو، کیوں کہ اصل قوت سکون اور ضبط میں ہے۔

نادان کو زندہ مت سمجھ، کہ جس دل میں معرفت کی روشنی نہ ہو، وہ جسم تو ہے مگر روح سے خالی ہے۔

دشمن کی تلخی پر ضبط کر، کہ غصہ تیرا سکون چھین کر تجھے کمزور کر دیتا ہے اور صبر تیری ڈھال ہے جو تجھے شکست سے بچاتی ہے۔

دوسروں کا بھلائی کرنا دراصل اپنی روح کو سکون دینا ہے، کیوں کہ جو تم دوسروں کے لیے کرتے ہو، وہ تمہارے اندر کی صفائی ہے۔

نفس کی خواہشات کو تسکین نہ دو، کیوں کہ یہ کبھی بھی سیراب نہیں ہوتا اور ہر نئی خواہش کے ساتھ اس کی طلب بڑھتی رہتی ہے۔

جھگڑے میں وہ حکمت نہیں جو صلح کی راہ چھوڑ دے کہ نرمی میں ہی انسانیت کی بلندیاں ہیں۔

اعلیٰ مقام کے لیے خودی کو پست نہ کرو۔

اپنے دل کو شیطان کا کھلونا مت بناؤ۔

جب خدا کی طرف سے کوئی آزمائش آئے، تو اسے قبول کرو، کیوں کہ وہ تمہیں اس کی قربت تک پہنچانے کا راستہ ہے۔

اگر عظمت کی آرزو ہے، تو وہ ان کے ساتھ رہ کر حاصل کر جو دنیا کی نظروں میں پست ہیں، کیوں کہ خدا کی نظر میں وہی بلند ہیں۔

وہ شخص بابرکت ہے جسے اپنی لغزشوں کا اتنا ادراک ہو کہ وہ دوسروں کی کمزوریوں کو ظاہر نہ کرے، کیوں کہ یہ انسانیت کی اصل ہے۔

مصیبت کو تحفہ سمجھ کر قبول کر۔

ذلت سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ کسی کے سامنے دستِ سوال نہ پھیلاؤ۔

صحت کو خدا کا انعام جانو، کہ جب تک جسم سالم ہو، روح کی پرواز ممکن ہے۔

جس کام میں دل کی ناپسندیدگی ہو، اسے فوراً ترک کر دو، کیوں کہ دل کی صاف گوئی میں ہی سچائی ہے۔

دشمن سے مشورہ کر کے فتح پاؤ اور دوست کو اپنی مروت سے دل میں جگہ دو۔

وہ کام کرو جو تمہیں دنیا کی نہیں بلکہ آخرت کی زندگی عطا کرے۔

ہر دن نئی روحانی کامیابی کی آرزو رکھو۔

صوفیانہ سرود دلوں کو بیدار کرتا ہے اور دلوں میں عشق کی شعلہ کو پھونکتا ہے۔

اپنی کمزوریوں پر نظر رکھو، کیوں کہ جو خود کو پہچانتا ہے، وہ خدا کو زیادہ قریب پاتا ہے۔

انسان کو کام کرنا چاہیے اور لوگوں کی باتوں میں نہ کھو جانا چاہیے۔

عجب کا جواب عجب سے دو، تاکہ تکبر کی حقیقت سامنے آ سکے۔

نیک آدمی کے ساتھ فیاضی اختیار کرو، کہ اس کی دل آویزی میں برکت ہے۔

دشمن چاہے جتنا بھی مخلص ہو، خود کو اس سے محفوظ نہ سمجھو۔

وہی دل حکمت و دانش کا مخزن بن سکتا ہے جو دنیا کی محبت سے خالی ہو۔

خودی کی تکمیل اس عبادت سے ہوتی ہے جس میں ظاہر و باطن دونوں سربسجود ہوں۔

جسے لوگ مصیبت کہتے ہیں اسے محبوب کی طرف سے ایک عطیہ سمجھو محبت کا تقاضہ یہی ہے۔

طمانیت قلب چاہتے ہو تو حسد سے دور رہو۔

درویش وہ ہے جو زبان آنکھ اور کانوں کو بند رکھے یعنی بری بات نہ سنے، نہ کہے اور نہ دیکھے۔

انسان کی تکمیل تین چیزوں سے ہوتی ہے خوف، امید اور محبت، خوف خدا گناہ سے بچاتا ہے، امید اطاعت پر آمادہ کرتی ہے اور محبت میں محبوب کی رضا کو دیکھنا پڑتا ہے۔

Recitation

बोलिए