Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
noImage

Maulana Waheeduddin Khan

Sufi Quotes of Maulana Waheeduddin Khan

SORT BY

جس آدمی کے پاس کتاب ہے وہ اکیلا نہیں ہے۔

جلدی نہ کرو کیوں کہ تم جتنی جلدی کرو گے اتنی ہی زیادہ دیر لگے گی۔

اپنے حق سے زیادہ چاہنا اپنے آپ کو اپنے واقعی حق سے بھی محروم کر لینا ہے۔

نادان نے کہا کہ میں نے اپنے ماضی اور حال کو برباد کر دیا، دانش مند بولا مگر مستقبل تو برباد نہیں ہوا۔

عقل مند آدمی اس وقت بولتا ہے جب کہ دوسرے بولنے والے چپ ہو چکے ہوں۔

سب سے زیادہ بولنا وہ شخص جانتا ہے جو سب سے زیادہ چپ رہنا جانتا ہو۔

اس دنیا میں کوئی غروب آخری نہیں، ہر غروب کے لیے ایک نیا طلوع مقدر ہے، بشرطیکہ آدمی اپنی شام کو دوبارہ صبح میں تبدیل کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو۔

دانش مند وہ ہے جس کا حریف اس کے منصوبہ سے اس وقت باخبر ہو جب کہ وہ اپنے منصوبہ کو تکمیل تک پہنچا چکا ہو۔

عقل مند آدمی ہر چیز کی امید اپنے آپ سے کرتا ہے اور بے وقوف آدمی ہر چیز کی امید دوسروں سے۔

عقل مند انسان وہ ہے جو اپنے حق سے کم لینے پر راضی ہو جائے اور دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دینے کے لیے تیار رہے۔

حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑی کو۔

اگر آپ نے اپنے آغاز کو پالیا تو آپ اپنے اختتام کو بھی پاسکتے ہیں کیوں کہ صحیح آغاز ہی کا دوسرا نام صحیح اختتام ہے۔

آج کا ڈوبا ہوا سورج اگلے دن ضرور طلوع ہوتا ہے مگر اکثر لوگ آنے والے دن تک اس کا انتظار نہیں کرتے۔

ترقی کا زینہ آدمی کی اپنی محنت ہے مگر بہت سے لوگ دوسروں کی بربادی کو اپنی ترقی کا سب سے قریبی زینہ سمجھ لیتے ہیں۔

بلند مقام ہمیشہ اپنے آپ کو بلند کرنے سے ملتا ہے نہ کہ نعرے اور جھنڈے کو بلند کرنے سے۔

نا دانی کے اقدام سے کہیں زیادہ بہتر یہ ہے کہ کوئی اقدام ہی نہ کیا جائے۔

دوسروں کو اپنی بربادی کا ذمہ دار ٹھہرانا صرف اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی خود اپنے امکانات سے با خبر نہ ہوسکا۔

جو شخص اپنے آپ پر فتح حاصل کرلے اس کے لیے دوسروں پر فتح حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں۔

عقل مند وہ ہے جو دوسروں کی غلطیوں کو بھول جائے اور اپنی غلطیوں کو ہمیشہ یاد رکھے۔

ہر شام کے بعد دوبارہ نئی صبح آتی ہے مگر صبح کو پانے والا صرف وہ شخص ہے جو صبح کے آنے تک اس کا انتظار کرے۔

جو شخص کاٹھ کی ہنڈیا میں کھانا پکائے اس کے لیے یہی مقدر ہے کہ وہ ہمیشہ بھوکا پڑا رہے۔

جب آدمی کا ماضی اور حال لٹ چکا ہو اس وقت بھی اس کا مستقبل محفوظ رہتا ہے۔

عقل مند آدمی کرنے سے پہلے سوچتا ہے اور بے وقوف آدمی کرنے کے بعد۔

اپنی ہار کو ماننا اس عزم کا اظہار ہے کہ آدمی پھر سے محنت کر کے اپنی کھوئی ہوئی بازی کو دوبارہ جیتنا چاہتا ہے۔

محرومی آپ کے لیے ترقی کا زینہ ہے، اگر وہ آپ کی دبی ہوئی قوتوں کو جگانے والی ثابت ہو۔

پیاسے دشمن کو پانی پلانا اس کے سر پر انگارہ رکھنے کے ہم معنی ہے۔

طاقتور دشمن سے انصاف کی اپیل کرنا ایسا ہی ہے جیسے پتھر سے یہ کہنا کہ وہ پانی کا چشمہ جاری کردے۔

برے سلوک کا بہترین جواب اچھا سلوک ہے، جہالت کا بہترین حل اس کو نظر انداز کر دینا ہے۔

بدبختی ہمیشہ اس دروازہ سے داخل ہو جاتی ہے جو ہم خود اس کے لیے کھلا چھوڑ دیتے ہیں۔

سب کچھ کھونے کے بعد بھی اگر آپ کے اندر حوصلہ باقی ہے تو سمجھ لیجیے کہ ابھی آپ نے کچھ نہیں کھویا۔

مواقع کو استعمال کرنے کا نام قیادت ہے اور مواقع کو برباد کرنے کا نام حماقت۔

مشکلات سے نہ گھبراؤ کیوں کہ مشکلات ہی در اصل انسان کو انسان بناتی ہیں۔

دانش مند وہ ہے جو بہت چاہے مگر جب لینا ہو تو کم لینے پر راضی ہو جائے۔

اگر آپ دنیا میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو پہلے ناکامی کا استقبال کرنے کا حوصلہ پیدا کیجیے۔

سو سال کا سفر کبھی اس طرح طے نہیں ہوتا کہ ہم اپنے کاغذی کلینڈر میں سو سال آگے کا ہندسہ لکھ لیں۔

جو کچھ کھویا گیا ہے اس کو بھول جاؤ تاکہ جو کچھ باقی ہے اس کو حاصل کر سکو۔

چھوٹے برتن میں زیادہ پانی نہیں سماتا، ٹھیک اسی طرح چھوٹے دل کے ساتھ بڑی کامیابی جمع نہیں ہوتی۔

آپ اپنی غلطی کی قیمت دوسرے سے وصول نہیں کر سکتے اور بلا شبہ یہ زندگی کی سب سے زیادہ تلخ حقیقت ہے۔

ناکافی تیاری کے ساتھ کیا ہوا اقدام مسئلہ کو پہلے سے زیادہ سخت بنا دیتا ہے۔

ایک شخص نے کہا کہ شام ہوگئی دوسرا شخص بولا یوں کہو کہ صبح ہونے والی ہے۔

کامیابی کسی آدمی کی اس صلاحیت کا نام ہے کہ وہ غیر موافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر سکے۔

یہ دنیا مقابلہ کی دنیا ہے اگر آپ دوسروں سے آگےنہیں بڑھتے تو دوسرے آپ سے آگے بڑھ جائیں گے۔

کوئی شخص کسی کا چراغ نہیں بجھاتا چراغ کے اندر تیل کی کمی چراغ کو بجھا دیتی ہے۔

بزدلی دکھا کر چپ ہونے سے بہتر یہ ہے کہ آدمی بزدلی دکھائے بغیر چپ ہو جائے۔

ہاتھی کی خاموشی کتے کی ہزار بھونک کے اوپر بھاری ہے۔

جو لوگ چھوٹی چیزوں میں الجھے ہوئے ہوں وہ صرف اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی میں کوئی بڑی چیز نہ پاسکے۔

سب سے زیادہ غلطی پر وہ شخص ہے جس کے پاس یہ کہنے کو نہ ہو کہ میں نے غلطی کی۔

اگر تم اپنا راز اپنے دشمن سے چھپانا چاہتے ہو تو اس کو اپنے دوست سے بھی نہ کہو۔

بچوں کا گھروندا جتنی دیر میں بنتا ہے اس سے بھی کم مدت میں وہ زمیں بوس ہو جاتا ہے۔

دیوار کو ایک ہی دھکے میں نہیں گرایا جاسکتا، ایسی کوشش کا مطلب صرف ایک ہے دیوار تو نہ گرے البتہ اپنا سر ٹوٹ جائے‘‘۔

Recitation

Speak Now